یورپ: دہشت گردی کے خطرات پر یورپی وزرائے خارجہ کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیرس میں ہونے والے حملے اور بلجیئم میں حملے کے منصوبے کے بعد یورپ میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ براعظم میں حالیہ حملوں کے بعد یورپ کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں پیر کو ملاقات کر رہے ہیں۔

پیرس میں ہونے والے حملے میں 17 افراد کی ہلاکت اور بیلجیئم میں دہشتگردی کے ایک ناکام منصوبے کے بعد یورپ میں ہائی الرٹ جاری کیا گيا ہے۔

یورپی یونین کے وزارئے خارجہ یوکرین میں روسی سرگرمیوں کے متعلق یورپی ممالک کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کو بھی حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

برسلز میں 28 ممالک کے وزائے خارجہ ان قدامت پسند یوروپی باشندوں کی واپسی کے گرد اٹھنے والے خدشات پر بھی بات چیت کریں گے جو عراق اور شام جنگ کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اس میٹینگ میں کسی بھی چیز پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ آئندہ ماہ دہشت گردی پر ہونے والے خصوصی اجلاس کے لیے تیاری کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری دولت اسلامیہ کے متعلق لندن میں ہونے والی بات چیت میں شرکت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلجیئم کے علاوہ یونان، جرمنی اور پیرس میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں بننے والے اتحادی ممالک کی میٹنگ جمعرات کو لندن میں منعقد ہو رہی ہے اور اس میں ’جنگجو گروپ کو پست اور پسپا کرنے کی مشترکہ کوششوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

لیکن برسلز کی میٹنگ بلجیئم، فرانس اور جرمنی میں دہشتگردی مخالف چھاپوں کے بعد ہو رہی ہے۔

بلجیئم نے یونان سے ایک مشتبہ شخص کو اپنے حوالے کیے جانے کے لیے کہا ہے جو گذشتہ ہفتے ناکام بنائے جانے والے منصوبے سے منسلک ہو سکتا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ جس شخص کو طلب کیا گیا ہے وہ عبدالحمید عباد تو نہیں جسے بلجیئم پولیس افسر کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کا رہنما کہا جا رہا ہے۔

اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا وہ یونان میں گرفتار کیے جانے والے افراد میں شامل بھی ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین میں روس کی سرگرمی پر یورپی ممالک میں اختلاف پایا جاتا ہے

دوسری جانب یوکرین کے شمالی شہر دونیتسک میں اتوار کو شدید جنگ بھڑک اٹھی ہے کیونکہ حکومتی فوج نے روس نواز جنگجوؤں کے خلاف اپنے آپریشنز تیز کر دیے۔

روس میں حکام کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے یوکرین ہم منصب پیٹرو پوروشینکو کو گذشتہ ہفتے ایک خط لکھاہے جس میں جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے جسے پروشینکو نے مسترد کر دیا ہے۔

کیئف سے بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ سٹرن کا کہنا ہے یوکرین کے حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کا اپنا منصوبہ روس کو بھیجا ہے اور وہ ابھی بھی ستمبر میں ہونے والے امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں