’شدت پسندی کے خلاف عرب ممالک سے اتحاد ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ہمیں معلومات کو مزید شیئر کرنے اور تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت ہے‘

برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے وسیع اتحاد پر زور دیا ہے جس میں اسلامی ممالک بھی شامل ہوں۔

فریڈریکا موگیرینی نے کہا کہ اسلامی ممالک کے ساتھ اور یورپی یونین میں اندرونی طور پر زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اس وقت خطرے کی نوعیت صرف پیرس جیسے واقعے کی نہیں ہے بلکہ یہ خطرہ دوسرے ممالک میں پھیل رہا ہے اور اس کا آغاز اسلامی ملکوں سے ہو رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے پہلے عرب ممالک سے اور پھر اندرونی طور پر۔ ہمیں معلومات کو مزید شیئر کرنے اور تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسلز میں ہونے والے اجلاس میں سب سے اہم ایشو یورپی ممالک سے عراق اور شام جانے والے افراد کی واپسی ہے جو انتہا پسندی کی جانب مائل ہو کر واپس آتے ہیں

برسلز میں جاری یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی بھی شریک ہیں۔

فریڈریکا موگیرینی نے کہا کہ ’ہم سیکریٹری جنرل سے بات چیت کریں گے کہ کیسے تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے ۔۔۔ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے۔‘

برسلز میں ہونے والے اجلاس میں سب سے اہم ایشو یورپی ممالک سے عراق اور شام جانے والے افراد کی واپسی ہے جو انتہا پسندی کی جانب مائل ہو کر واپس آتے ہیں۔

اس اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ مختلف آپشنز پر بحث کی جائے گی جو کہ یورپی یونین کے سربراہان کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ سربراہان کا اجلاس 12 فروری کو ہونا ہے۔

پیرس میں ہونے والے حملے میں 17 افراد کی ہلاکت اور بیلجیئم میں دہشتگردی کے ایک ناکام منصوبے کے بعد یورپ میں ہائی الرٹ جاری کیا گيا ہے۔

یورپی یونین کے وزارئے خارجہ یوکرین میں روسی سرگرمیوں کے متعلق یورپی ممالک کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کو بھی حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلجیئم نے یونان سے ایک مشتبہ شخص کو اپنے حوالے کیے جانے کے لیے کہا ہے جو گذشتہ ہفتے ناکام بنائے جانے والے منصوبے سے منسلک ہو سکتا ہے

بلجیئم نے یونان سے ایک مشتبہ شخص کو اپنے حوالے کیے جانے کے لیے کہا ہے جو گذشتہ ہفتے ناکام بنائے جانے والے منصوبے سے منسلک ہو سکتا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ جس شخص کو طلب کیا گیا ہے وہ عبدالحمید عباد تو نہیں جسے بلجیئم پولیس افسر کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کا رہنما کہا جا رہا ہے۔

اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا وہ یونان میں گرفتار کیے جانے والے افراد میں شامل بھی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں