گولان میں ’اسرائیلی‘ کارروائی میں ایرانی جنرل ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ پر صرف جنرل محمد علی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے

ایران نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو گولان کی پہاڑیوں میں کی گئی مبینہ اسرائیلی کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’جنرل محمد علی شام میں بشار الاسد کی فوجوں کے مشیر کے طور پر تھے۔‘

پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ پر صرف جنرل محمد علی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’جنرل محمد علی شام میں روضوں کی حفاظت اور شام کی معصوم عوام کی مدد کے لیے گئے تھے۔‘

اس سے قبل لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے شامی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے چھ ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جہاد مغنیہ کے والد عماد مغنیہ دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔

یہ کارروائی اتوار کوگولان کی پہاڑیوں میں کی گئی اور ہلاک ہونے والوں میں حزب اللہ کے 2008 میں ہلاک کیے جانے والے مشہور کمانڈر عماد مغنیہ کا بیٹا جہاد مغینہ بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کے علاوہ تنظیم کے ایک موجودہ کمانڈر محمد عیسیٰ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا ایک رکن بھی اس حملے میں مارے جانے والوں میں شامل ہیں۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار پر نشر والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگجو قوینترا نامی صوبے میں علاقے کی دیکھ بھال کے ایک مشن پر تھے جب وہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے شام کے اندر کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے البتہ ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے ایک حملے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یہ واقعہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی طرف سے اسرائیل کو دی جانے والی اس دھمکی کے چند دن پیش آیا ہے جس میں انھوں نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اس نے شام کے اندر فضائی حملے بند نہ کیے تو حزب اللہ اسرائیل کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم اسرائیل کے مقابلے کے لیے ہتھیار اکھٹے کر رہی ہے جن میں دور تک مار کرنے والے ایسے میزائل بھی ہیں جو اسرائیل کے ہر حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حسن نصر اللہ نے حال ہی میں اپنی صفوں میں ایک اسرائیلی جاسوس کی موجودگی کی تصدیق بھی کی تھی

اتوار کے حملے کے بعد المنار ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔‘

حزب اللہ کے جنگجو شامی صدر بشار الاسد کے حامی ہیں اور وہاں چار برس سے جاری خانہ جنگی میں حکومتی افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

شام میں لڑائی شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے کئی بار شامی حدود کے اندر فضائی حملے کیے ہیں اور اس کا موقف رہا ہے کہ وہ شامی اسلحے کو حزب اللہ کے قبضے میں جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والے جہاد مغنیہ کے والد عماد مغنیہ دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔ حزب اللہ نے ان کی ہلاکت کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

عماد مغنیہ 1980 کی دہائی میں لبنان میں مغربی ممالک کے شہریوں کے اغوا کی وارداتوں کے منصوبہ ساز سمجھے جاتے تھے۔

اسی بارے میں