یمن میں جنگ بندی ہو گئی، سرکاری ٹی وی پر باغیوں کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صنعا کے بڑے علاقے پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے

یمن کے سرکاری ٹی وی چینل اور ایک دوسرے چینل ایدن ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ٹکرز کے مطابق سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ ان چینلوں پر یہ ٹکرز اس وقت شائع ہوئے جب اس سے پہلے یمن کی وزیرِ اطلاعات نادیہ السکاف نے کہا تھا کہ یہ سرکاری ٹی وی چینل سرکار کے کنٹرول میں نہیں رہا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس چینل اور سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سابا‘ پر حوثی باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

یہ جنگ بندی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان صدارتی محل کے نزدیک شدید لڑائی کے بعد ہوئی ہے۔

یمن کے سرکاری ٹی وی نے 13:51 اور 14:07 جی ایم ٹی پر جنگ بندی کے ٹکرز نشر کیے۔

جنگ بندی کے حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی میں یمن کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور حوثی باغیوں کے نمائندوں نے جنگ بندی پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔

اس سے پہلے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں اور فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

حکومت اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران یمن کی وزیرِ اطلاعات نادیہ السکاف نے کہا تھا کہ صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے باجود وہ بالکل محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تین مختلف گرو شہر کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنھبالے ہوئے ہیں۔

پیر کی صبح سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں کا مرکز شہر میں صدارتی محل کا قریبی علاقہ بتایا جا رہا ہے تاہم شہر کے تقریباً ہر حصے میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی کی شدت کی وجہ سے بہت سے لوگ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

یہ تازہ جھڑپیں باغیوں کی جانب سے صدر عبدالربوح منصور ہادی کے چیف آف سٹاف احمد کے اغوا کے دو دن بعد شروع ہوئی ہیں۔

عواد بن مبارک اور ان کے دو محافظین کو صنعا کے مرکزی علاقے سے ہی سنیچر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر اور باغیوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جانب سے کروائے گئے معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کارروائی کی ہے۔

باغیوں نے ایک بیان میں یمنی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کو بچانے کے لیے ’خصوصی اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یمن میں شیعہ حوثی باغیوں اور سنّی شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں

ان ہلاکتوں کے بعد باغیوں اور حکومت نے گذشتہ برس ستمبر میں ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

حوثی قبائل کو حکومت سے معاہدے کی تحت صنعا سے پیچھے ہٹنا تھا لیکن انھوں نے مرکزی اور مغربی یمن میں اپنے دائرہ کار اور کنٹرول کو مزید وسعت دے دی ہے۔

صنعا کے بڑے علاقے پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے۔

جزیرہ نما عرب میں برسرپیکار القاعدہ نے جہاں گذشتہ چار سالوں میں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والی بےچینی اور افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے وہیں حوثی قبائل کی طرف سے بھی موجودہ صدر ہادی کی حکومت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں