انڈین آم پر یورپی یونین کی پابندی ختم

انڈین آم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا پابندی کے بعد اپنے برآمدات کے نظام میں نمایاں بہتری لایا ہے

انڈین آم کی یورپی اتحاد کے ممالک میں درآمد پر پابندی اٹھائی جا رہی ہے۔

تاہم دوسری کھانے کی اشیا جیسے بینگن، دو طرح کی سکواش اور کھانا پکانے کے لیے ڈالے جانے والے کری پتے پر پابندی برقرار رہے گی۔

مئی میں انڈین آم کی یورپی یونین آنے والی کھیپ میں مکھیاں پائی گئی تھیں جس کی وجہ سے اس کی درآمد معطل کر دی گئی تھی۔

منگل کو یورپی کمیشن کی کمیٹی نے پابندی اٹھانے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

یورپی کمیشن نے اپنے متفقہ ووٹ کے بعد کہا کہ انڈیا کے آم برآمد کرنے کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

برطانوی حکومت نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ پابندی اٹھانے کے متعلق سوچ رہی ہے اور جن ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا برطانیہ بھی ان میں سے ایک تھا۔

قدرتی ماحول کے برطانوی وزیر لارڈ ڈی مائلے نے کہا کہ ’ہم انڈین اور اپنے ہم منصبی یورپی اہلکاروں سے قریبی رابطے میں تھے تاکہ جتنا جلدی ہو سکے اس مسئلے کو حل کیا جا سکے، اور مجھے خوشی ہے کہ اب آموں میں تجارت شروع ہو جائے گی۔

’آج کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا اپنے برآمدات کے نظام میں نمایاں تبدیلی لایا ہے اور یہ ضروری ہے کہ یہ معیار قائم رکھے جائیں تاکہ تجارت جاری رہے اور برطانیہ کے پودوں کی صحت کا تحفظ رہے۔‘

برطانیہ میں آم درآمد کرنے والی تاجر مانیکا بھنڈاری کہتی ہیں کہ ’گاہک اس پابندی کے بہت خلاف تھے۔ اب وہ بہت خوش ہوں گے۔‘

انڈیا میں آموں کا موسم اپریل سے جون تک ہوتا ہے۔

اسی بارے میں