’یرغمال شہریوں کو دولتِ اسلامیہ کی دھمکی ناقابلِ قبول‘

شنزو ایبے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جاپانی وزیرِ اعظم مشرقِ وسطی کے چھ روزہ دورے پر ہیں

جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو آبے نے دولتِ اسلامیہ کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے دو جاپانی شہریوں کو قتل کرنے کی دھمکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک جنگجو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر تاوان ادا نہ کیا گیا تو وہ یرغمالوں کو ہلاک کر دے گا۔

دولت اسلامیہ کیا ہے دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ

ویڈیو کی آزادنہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس میں ایک جنگجو داعش کے خلاف جنگ کرنے والے ممالک کی مدد کرنے کی ہامی بھرنے کے الزام میں جاپان پر تنقید کرتا ہے۔

آبے نے کہا کہ دھمکی ناقابلِ قبول ہے اور اس کے ساتھ یہ عہد بھی کیا کہ وہ یرغمالوں کو بچا کر رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یرغمال جاپانیوں کی زندگیوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور یہ کہ جاپان دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔

جاپان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو کی تصدیق کر رہی ہے۔

ویڈیو میں دونوں جاپانیوں کے نام کینجی گوٹو اور ہارونا یوکاوا بتائے گئے ہیں۔ گوٹو ایک مشہور فری لانس صحافی ہیں جبکہ ہارونا شام میں ایک نجی ملٹری کونٹریکٹنگ کمپنی بنانے گئے تھے۔

آبے اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے چھ روزہ دورے کے سلسلے میں یروشلم میں ہیں۔

تاہم کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنا باقی دورہ منسوخ کر کے جاپان واپس پہنچ رہے ہیں تاکہ یرغمالوں کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔

یروشلم میں آبے نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ وہ بہت برہم ہیں اور دھمکیوں پر انھیں شدید غصہ ہے۔ انھوں نے یرغمالوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسندی اور اسلام دو مختلف چیزیں ہیں: ’بین الاقوامی برادری کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گی اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم مل کر کام کریں۔‘

آبے نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے جاپان کی غیر فوجی امداد جاری رہے گی۔

سنیچر کو قاہرہ میں اپنے قیام کے دوران جاپانی وزیرِ اعظز نے خطے میں غیر فوجی امداد کی مد میں ڈھائی ارب امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا جن میں داعش سے برسرِ پیکار ممالک کو 20 کروڑ ڈالر بھی شامل تھے۔

حکام کے مطابق 20 کروڑ ڈالر میں سے زیادہ تر شام اور عراق سے آنے والے پناہ گزینوں پر خرچ کیا جائے گا۔

ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص ہاتھ میں چاقو لیے انگریزی زبان میں دھمکی دیتا ہے کہ اگر 20 کروڑ ڈالر تاوان 72 گھنٹوں کے اندر اندر ادا نہ کیا گیا تو وہ دونوں یرغمالوں کو قتل کر دیں گے۔

اسی بارے میں