صدر اوباما کا دولت کی مساویانہ تقسیم کا منصوبہ

اوباما
Image caption صدر اوباما نے دولت کی مساوی تقسیم پر زور دیا

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے گذشتہ برسوں کی مالیاتی بدحالی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ایسی نئی معاشی پالیسیوں کا وعدہ کیا ہے جس سے تمام امریکی مسفید ہو سکیں گے۔

مبصرین کے مطابق صدر اوباما کے اس سالانہ ’سٹیٹ آف دی یونین‘ صدارتی خطاب کا مقصد امریکہ کے متوسط طبقے کے خاندانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا اسی لیے انھوں نے خطاب میں اس طبقے کے لیے اپنی پالیسیوں کے خدوخال کی وضاحت کی۔

کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی نئی پالیسیوں سے مستفید ہونے کا انحصار ’اب اس بات پر ہے کہ ہم آئندہ پندرہ برسوں میں کیا بننا چاہتے ہیں۔‘

لیکن لگتا ہے کہ صدر اوباما کے منصوبے کانگریس سے آگے نہیں جا سکیں گے کیونکہ کانگریس میں اکثریت ریپبلکن پارٹی کی ہے۔

اپنے خطاب کے بارے میں خود صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اس میں انھوں نے پالیسیوں کی بجائے اقدار پر زور دیا ہے۔ انھوں نے خطاب میں کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد کے سب سے بڑے معاشی بحران کے بعد امریکہ اپنی تاریخ کے دوسرے بڑے معاشی بحران سے اب نکل آیا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اب ان کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ گذشتہ برسوں میں ہونے والی شرح نمو میں بہتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمت پیشہ گھرانوں کو بیماری اور زچگی کے دوران چھٹیوں میں سہولت اور ان کے بچوں کی نگہداشت میں آسانی پیدا کریں۔

’کیا ہم ایک ایسی معیشت کو قبول کر لیں کہ جس میں ہم سےمحض کچھ لوگوں زبردست فائدہ ہو؟ یا ہم اپنی کوششیں ایک ایسی معیشت کے لیے وقف کریں کہ جس میں کوشش کرنے والے ہر شخص کی آمدن میں اضافہ ہو اور اسے آگے بڑھنے کے بہتر مواقع ملیں؟‘

صدر اوباما نے خطاب میں ایک ایسی معیشت کے منصوبوں کی نشاندہی کی جو دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں کا مقابلہ کر سکے۔ اس کے لیے ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں انفراسٹرکچر میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور سرکاری (کمیونٹی) کالجوں میں تعلیم مفت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

’ یہ منصوبہ آپ کو موقع دے گا کہ آپ قرض کے بوجھ کے بغیر کالج سے نکلیں اور نئی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

واضح رہے کہ صدر اوباما کے خطاب سے پہلے آخرِ ہفتہ کے دنوں میں وائٹ ہاؤس سے یہ اعلان بھی ہو چکا ہے کہ صدر بڑی جاگیروں اور املاک پر لگائے جانے والے ’وراثتی ٹیکس‘ کے نظام میں ٹیکس چوری کو روکنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے امیر ترین طبقے پر ٹیکس کے شرح 23.8 فیصد سے بڑھا کر 28 فیصد کی جائے گی اور ان امریکی مالیاتی اداروں پر نئے ٹیکس لگائے جائیں گے جن کے اثاثے 50 ارب ڈالر سے زیادہ ہوں گے۔

ریپبلکن پارٹی کے چند سینیئر ارکان نے صدر اوباما کے نئے معاشی منصوبوں کو رد کرتے ہوئے انھیں ’طبقاتی جنگ‘ سے تعبیر کیا ہے۔

صدر اوباما نے جن دیگر اقدامات اور منصوبوں کا ذکر کیا ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • بیماری کی چھٹیوں کے نظام میں بہتری لانا
  • سرکاری (کمیونٹی) کالجوں میں تعلیم پانے والے ایک کروڑ 90 لاکھ طلبا کو ان کی فیس میں مدد دینا
  • انٹرنیٹ کی دنیا میں حفاظتی اقدامات (سائیبر سکیورٹی) کو مضبوط بنانا
  • گوانتانامو کی جیل بند کرنے کے عمل کو جاری رکھنا
  • مردوں اور خواتین کے لیے برابر تنخواہ

سالانہ خطاب میں خارجہ امور کے حوالے سے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردوں کا پیچھا کرنے میں ’یکطرفہ کارروائی‘ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدر نے کانگریس سے درخواست کی وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی منظوری دے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں امریکی صدر نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ کوئی معاہدہ کر سکتا ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اقوام متحدہ میں کسی بھی ایسے نئے بِل کو ویٹو کرے گا جس سے یہ خطرہ ہو کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل سکتا ہے۔

خارجہ امور کے سلسلے میں صدر اوباما نے کہا کہ ان کے اس فیصلے سے کہ کیوبا کے بارے میں امریکہ کی پرانی پالیسی کو ختم کیا جائے اور کسی نئی تجویز کی کوشش کی جائے، ’ہمارے خطے میں بد اعتمادی کی طویل تاریخ‘ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں