یورو زون کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے 11 سو ارب یورو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ زون کی سنگل کرنسی یورو کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں نمایاں کمی آئی ہے

یورپ کے مرکزی بینک نے یورو زون کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کم از کم 11 سو ارب یورو کا سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی یورپی بینک آئندہ سال ستمبر تک یورو زون کے 19 سنگل کرنسی ممالک کے ہر بینک سے ہر ماہ 60 ارب یورو کے بانڈز خریدے گا۔

’2015 یورپ میں سیاسی زلزلوں کا سال ہو سکتا ہے‘

اس فیصلے کا مقصد بینکوں کو زیادہ سرمایہ فراہم کرنا ہے تاکہ شرح سود کو کم رکھا جا سکے اور اس قرض لینے اور انھیں خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے گی۔

اس وقت یورو کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 11 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور رواں سال اب تک ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں چھ فیصد کمی آ چکی ہے۔

یورپ کے مرکزی بینک ای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس پروگرام کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک مہنگائی کی شرح پائیدار حد تک قابو میں نہیں آتی ہے۔

ای سی بی نے یورو زون میں افراطِ زر کو دو فیصد تک رکھنے کا عزم کیا ہے جبکہ شرح سود کو صفر اعشاریہ صفر پانچ تک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس پروگرام کے نتیجے میں اٹلی، سپین اور پرتگال سمیت مالی بحران سے دوچار ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

ای سی بی کے اس اعلان کے بعد یورپی بازارِ حصص میں بہتری آئی ہے

ماریو دراغئی نے مزید کہا ہے کہ مرکزی بینک نے اپنے طور پر سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام اس وجہ سے شروع کیا ہے کیونکہ کم افراط زر کے طویل عرصے تک رہنے کی وجہ سے خطرہ بڑھ گیا تھا اور اس سے نمٹنا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption ای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا

انھوں نے کہا کہ ای سی بی کے نگراں بورڈ میں اکثریت نے بانڈز خریدنے کے پروگرام کی حمایت کی ہے اور اسی وجہ سے اس فیصلے پر رائے شماری کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے پہلے مرکزی بینک ایسے اقدامات سے گریز کرتا رہا ہے تاہم جولائی 2012 میں ماریو دراغئی نے کہا تھا کہ یورو زون میں مالی استحکام کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار رہیں گے۔

ای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا بلکہ ممبر ممالک کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں سے بانڈ خریدنے کو کہے گا۔

قرضوں پر شرح سود میں کمی سے بینکوں کی قرض دینے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس سے یورو زون کے کاروبار اور گاہک زیادہ خرچ کر سکیں گے۔

اس سے پہلے امریکہ نے بھی سال 2008 سے 2014 تک یہ ہی حکمت عملی اپنائی تھی اور اس سے فائدہ بھی ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا

اس کے علاوہ برطانیہ اور جاپان بھی بانڈز خریدنے کے قابل ذکر پروگرام چلا رہے ہیں۔

ماہر معیشت ایلسٹر ونٹر نے ای سی بی کے اعلان پر کہا ہے کہ’معاشی لحاظ سے یہ غیر ضروری ہے تاہم کم از کم اس سے مارکیٹس یورو فروخت کرنے اور بینکوں کے عام حصص خریدنے اور کمزور بانڈز خریدنے سے لطف اندروز ہوں گے۔‘

گذشتہ دنوں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے باوجود 2015 اور 2016 کے لیے یورپ سمیت عالمی معیشت کی بڑھوتری کے اندازوں میں کمی کر دی تھی۔

رپورٹ میں یورپ میں اقتصادی بحالی کا عمل جاری رہنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ رواں برس یورو استعمال کرنے والے ممالک میں شرحِ ترقی ایک اعشاریہ دو فیصد اور آنے والے برس میں ایک اعشاریہ چار فیصد رہے گی۔

اسی بارے میں