یوکرین: باغیوں نے جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا

یوکرین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونیتسک میں یوکرین کے فوجی باغیوں سے برسرِ پیکار ہیں

مشرقی یوکرین میں روس نواز رہنما نے کہا ہے کہ ان کے فوجی حملے کرتے رہیں گے اور وہ کیو کے ساتھ جنگ بندی نہیں چاہتے۔

الیگزینڈر ذاخارچنکو نے کہا کہ ان کی فوجیں فرنٹ لائن کو دونیتسک کے علاقے سے پیچھے دھکیل دیں گی۔ دونیتسک شہر کا کنٹرول اس وقت ان کے پاس ہے۔

روس کے صدر ولادمیر پوتن نے یوکرین کی حکومت پر عام شہری علاقوں میں شیلنگ کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کیو نے سرحد پر اہم فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اس سے قبل ذاخارچنکو نے کہا تھا کہ باغی جنگ بندی کے مذاکرات کی مزید کوششیں نہیں کریں گے۔

یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی نے بھی لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو حکومتی فوجی دونیتسک کے اہم ٹرمینل سے پسپا ہو گئے تھے۔ گذشتہ ہفتے سے شہر کے ہوائی اڈے پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری تھی جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption الیگزینڈر ذاخارچنکو (بائیں طرف) نے کہا ہے کہ ہم تین طرف سے حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں

یہ شہر کئی ماہ سے شدید جھڑپوں کا مرکز رہا ہے اور ہوائی اڈے کا کنٹرول شہر پر قبضے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کے کچھ حصے پر اب بھی ان کا قبضہ ہے۔

یوکرین نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقی علاقوں میں اس کی فوج پر حملے کر رہا ہے۔

یوکرین کی فوج کے ترجمان اینڈری لیسنکو نے کہا تھا کہ روسی فوج کے یونٹس نے لوہانسک کے علاقے میں یوکرین کے فوجیوں پر حملے کیے ہیں۔لوہانسک کے زیادہ تر علاقے پر روس کے حامی باغیوں کا قبضہ ہے۔

ابھی تک یوکرین کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم روس انکار کرتا ہے کہ اس کے فوجی یوکرین میں موجود ہیں لیکن یہ تسلیم کرتا ہے کہ رضا کار باغیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس کے آٹھ ہزار فوجیوں کی موجودگی کا دعویٰ کر چکا ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق الیگزینڈر ذاخارچنکو نے کہا کہ ’ہم دونیتسک علاقے کی سرحدوں تک حملے کریں گے، لیکن اگر ہم کو دوسری اطراف سے خطرہ نظر آیا تو ہم اس کو بھی کم کریں گے۔ کیو کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہم ایک ہی وقت میں تین طرف حملے کر سکتے ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق اپریل سے لے کر اب تک لڑائی میں 5,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں