برازیل کے تین گنجان آباد صوبوں میں بدترین خشک سالی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماحولیات کی سیکریٹری آندری کوریا کا کہنا ہے کہ صوبے کو تاریخ کے سخت ترین پانی کے بحران کا سامنا ہے

برازیل میں ماحولیات کی وزیر ایزابیلا ٹیکزیرا نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے گنجان آبادی والے علاقوں کو سنہ 1930 کے عشرے کے بعد سے سب سے خطرناک خشک سالی کا سامنا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت برازیلیا میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران کہا کہ ساؤنگ پولو، ریو ڈی جنیرو اور مینس ژورس صوبوں کے لیے پانی کا تحفظ اشد ضروری ہے۔

ایزابیلا نے پانی کے اس بحران کو ’نازک‘ اور ’پریشان کن‘ معاملہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ پانی کے اس بحران سے زراعت اور صنعت دونوں متاثر ہوں گے جس کے نتیجے میں برازیل کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔

خشک سالی سے توانائی کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی ہو جائے گی۔

یہ بحران اس وقت شروع ہوا ہے جب بجلی کے مطالبے میں اورگرمی میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماحولیات کی وزیر نے پانی کے اس بحران کو ’نازک‘ اور ’پریشان کن‘ معاملہ قرار دیا

ایزابیلا نے کہا ’84 سال قبل جب سے برازیل میں ریکارڈ رکھنے کی ابتدا ہوئی ہے ہمارا اس طرح کی نازک اور پریشان کن صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا ہے۔‘

ایوان صدر میں ہونے والے اس اجلاس میں خشک سالی پر گفتگو کرنے کے لیے پانچ دوسرے وزرا بھی موجود تھے۔

بی بی سی کی جولیا کارنیرو کا کہنا ہے کہ اس بحران کی ابتدا ساؤنگ پولو سے ہوئی جب شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مسلسل کٹوتی کا سامنا رہنے لگا۔

صوبے کے گورنر جیرالڈو نے اس ضمن میں کئی اقدامات کیے ہیں جن میں زیادہ پانی خرچ کرنے پر اضافی چارج اور کم پانی استعمال کرنے پر چھوٹ اور صنعت اور زراعت کے لیے ندی سے پانی لینے پر حد بندی وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن ناقدین خراب منصوبہ بندی اور سیاست کو اس ابتر صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم آئندہ چھ مہینوں تک ریو میں پانی پر راشننگ نہیں کی جائے گی

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکام نے اس بحران سے نمٹنے میں تیزی کا مظاہرہ نہیں کیا اور جیرالڈو نے عوام کو بروقت متنبہ نہیں کیا کیونکہ وہ اکتوبر 2014 میں دوبارہ منتخب ہونا چاہتے تھے۔

دوسری جانب ریو ڈی جنیرو میں پانی کے اہم زخیرے کی سطح صفر ہوگئی ہے اور اس کی تعمیر کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایسا ہوا ہے۔

ماحولیات کی سیکریٹری آندرے کوریا کا کہنا ہے کہ ’صوبے کو تاریخ کے سخت ترین پانی کے بحران کا سامنا ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ دوسرے زخیروں میں اتنا پانی ہے کہ کم از کم آئندہ چھ مہینوں تک ریو میں پانی پر راشننگ نہیں کی جائے گی۔

اسی بارے میں