اوباما کی دولتِ اسلامیہ کے یرغمالی جاپانی شہری کے ’قتل‘ کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولت اسلامیہ نے جاپان کی حکومت کو تاوان ادا کرنے کے لیے صرف 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

امریکی صدر براک اوباما نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں جاپانی مغوی ہارونہ یوکاوا کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ظالمانہ قتل‘ قرار دیا ہے۔

ادھر جاپانی حُکام نے کہا ہے کہ وہ ہارونہ کی ہلاکت کی خبر دینے والی ویڈیو کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حفاظتی امور پر مشاورت کرنے والے ہارونہ ان دو جاپانی شہریوں میں سے ایک ہیں جنھیں شام میں شدت پسندوں نے چند روز قبل یرغمال بنایا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے خصوصی رپورٹ

امریکی صدر نے دوسرے مغوی صحافی کینجی گوٹو کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادی جاپان کے شانہ بہ شانہ اس کے ایک مغوی کے دکھ میں شریک ہے۔

براک اوباما نے اس عزم کو دوہرایا کہ ان کا ملک دولتِ اسلامیہ کو آہستہ آہستہ کمزور کرنے کے بعد آخرِ کار اسے شکست دے دے گا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار نیومی گرملے کا کہنا ہے کہ اگرچہ جاپانی مغوی کی ہلاکت کی اطلاع کی ویڈیو کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا گیا لیکن اب لگتا ہے کہ امریکیوں نے اسے اصل تسلیم کر لیا ہے۔

اس ویڈیو میں کینجی کو مبینہ طور پر ہارونہ کی لاش کی تصویر پکڑے کھڑے دکھایا گیا ہے۔

Image caption منگل کو جاری کی گئی ویڈیو میں ایک نقاب پوش مسلح شخص کو گوٹو اور یوکوا کے سر پر کھڑے دکھایا گیا تھا۔

جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے سنیچر کو کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اس ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل معافی قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری یوشیہیڈ سوگا نے کہا ہے کہ کینجی گوٹو کی تصویر انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ہے جس میں وہ ایک قتل کیے گئے جاپانی کی تصویر اُٹھائے ہوئے ہیں جو کہ ہارونہ یوکاوا ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اِس ناقابلِ معافی تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور بچے ہوئے شہری کو تقصان نہ پہنچانے کی درخواست کرتے ہیں۔

گزشتہ منگل کو دولت اسلامیہ نے دو جاپانی شہریوں کینجی گوٹو اور ہارونہ یوکاوا کو یرغمال بنانے کا دعوی کرتے ہوئے ان کی رہائی کے عوض بیس کروڑ ڈالر تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دولت اسلامیہ نے جاپان کی حکومت کو تاوان ادا کرنے کے لیے صرف 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

دولت اسلامیہ کی طرف سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں کینجی گوٹو کو ایک تصویر اٹھائے ہوئے دکھایا گیا جو کہ یوکاوا کی لاش کی ہو سکتی ہے۔ اسی ویڈیو میں انھیں اپنی رہائی کی درخواست کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند ماضی میں متعدد مغربی مغویوں کو ہلاک کر چکے ہیں

جاپان کے کیبنٹ سیکریٹری یوشیہیڈ نے کہا کہ وہ کینجی گوٹو کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔

اس ویڈیو کے بارے میں یقینی طور سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسے باقاعدہ طور پر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

ماضی میں سامنے آنے والی ویڈیوز کے برعکس اس میں نہ تو دولتِ اسلامیہ کے شعبۂ ابلاغ کا نشان موجود ہے اور ماضی کی ویڈیو فوٹیج کے برعکس اس میں ایک تصویر کے ہمراہ صوتی پیغام موجود ہے۔

کینجی گوٹو ایک فری لانس فوٹو گرافر ہیں اور یوکوا دستاویزی فلمیں بناتے تھے۔ یہ دونوں اطلاعات کے مطابق فوج کی کنٹریکٹنگ کمپنی بنانے کے لیے شام گئے تھے۔

اس سے قبل منگل کو جاری کی گئی ویڈیو میں ایک نقاب پوش مسلح شخص کو گوٹو اور یوکوا کے سر پر کھڑے دکھایا گیا تھا۔

دولت اسلامیہ نے جاپان سے تاوان کی اتنی ہی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے جتنی رقم وزیر اعظم ایبے نے اپنے مشرق وسطی کے حالیہ دورے میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے ملکوں کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں