یونان: الیکشن میں کٹوتیوں کی مخالف سائریزا پارٹی آگے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائریزا پارٹی نے ابتدائی نتائج کو سماجی وقار اور انصاف کی بحالی قرار دیا ہے

یونان میں 300 رکنی پارلیمان کے ارکان کے انتخاب کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی ہے اور ابتدائی نتائج کے مطابق بائیں بازو کی جماعت سائریزا آگے ہے۔

ان انتخابات میں سائریزا پارٹی اور حکمران نیو ڈیموکریسی پارٹی کے مابین اصل مقابلہ ہے۔

یونان میں اہل ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ ہے جو اقتصادی مسائل کا شکار اپنے ملک کی نئی حکومت کا انتخاب کر رہے ہیں۔

ووٹنگ کا عمل صبح سات بجے سے شام سات بجے تک جاری رہا اور لوگوں نے بڑی تعداد میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

پولنگ کے خاتمے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا اور ایگزٹ پولز کے مطابق کفایت شعاری اور بچت کی مخالف سائریزا پارٹی آگے ہے۔

ایگزٹ پول کے مطابق اس الیکشن میں سائریزا کو 36 سے 38 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ حکمران جماعت 26 سے 28 فیصد ووٹ لے رہی ہے۔

سائریزا جماعت کے رہنما الیکسز سپراس نے انتخابات میں فتح کی صورت میں یونان کو دیے گئے عالمی قرضوں کی شرائط پر دوبارہ بات چیت اور کفایت شعاری اور کٹوتی کے چلن کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایگزٹ پول کے مطابق سائریزا نے مجموعی طور پر ڈالے گئے ووٹوں میں سے 36 سے 38 فیصد ووٹ لیے ہیں

سائریزا کی کامیابی کی صورت میں یہ خدشہ بھی ہے کہ یونان اپنے قرض ادا نہیں کرے گا اور اس طرح وہ یورو سے نکل جائے گا۔

تاہم سائریزا پارٹی نے یورو زون بحران کے عروج کے دوران کے اپنے موقف میں نرمی کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یورو کرنسی کا رکن رہنا چاہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائریزا پارٹی کی فتح کے امکان کی وجہ سے یونان کے بازارِ حصص میں خوف کی کیفیت ہے کیونکہ اگر قرض دینے والے نئی شرائط پر تیار نہیں ہوتے تو یونان کے دیوالیہ ہونے اور یورو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ یونان نے یورپی یونین، عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور یورپ کے مرکزی بینک سے ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے کیے جانے والے معاہدے کے تحت بجٹ میں زبردست کٹوتی برداشت کی ہے۔

یونان کی معیشت سنہ 2008 کی عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں تیزی سے زوال پذیر ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں