نیویارک اور بوسٹن شدید برفانی طوفان کی زد میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیو یارک کے میئر نے پریس کانفرنس میں لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ برف صاف کرنے والے 2300 ٹرکوں سے محتاط رہیں

نیویارک سمیت امریکہ کے شمالی مشرقی ریاستوں کو شدید برفانی طوفان کا سامنا ہے، اور موسم کی پیش گوئیوں میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہاں بھاری برف باری متوقع ہے۔

پیش گوئی کے مطابق سرمائی طوفان ’جونو‘ جرسی، مین اور نیو ہیمپشائر ریاستوں میں 30 انچ کے قریب برف باری کا باعث بن سکتا ہے۔

پیر کو رات 11 بجے سے ہنگامی گاڑیوں کے علاوہ ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور زیرِ زمین ریل سروس معطل کر دی گئی ہے۔ بوسٹن میں بھی اسی قسم کی صورتِ حال ہے۔

امریکہ میں برفانی طوفان: تصاویر

اس طوفان سے چھ کروڑ کے لگ بھگ لوگ متاثر ہوں گے۔

نیویارک، نیوجرسی، کنیٹی کٹ، روڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس، اور نیو ہیمپشائر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ نیو یارک کے حکام نے مقامی وقت رات گیارہ بجے کے بعد سے 6000 کلومیٹر طویل سڑکوں کے سلسلے پر گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان ریاستوں کے کچھ علاقوں میں ایک گھنٹے میں چار انچ برف پڑی۔ نیو یارک، نیو جرسی، کنیٹی کٹ، روڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جہاں پر پیشگوئی کی گئی ہے کہ منگل کی صبح ایک فٹ کی برف پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

نیو یارک کے میئر نے پریس کانفرنس میں لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ برف صاف کرنے والے 2300 ٹرکوں سے محتاط رہیں: ’ہم اس طوفان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہم دیکھیں گے کہ برفانی طوفان بہت تیزی سے اور بہت شدت سے ہم سے ٹکرائے گا۔‘

امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں واقع ہوائی اڈوں پر پانچ ہزار جہازوں کی پرواز متاثر ہوئی ہے۔

نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی سے کام کریں۔ قومی محکمہ موسمیات کے گلین فیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ برفانی طوفان پچھلے اندازوں سے بھی زیادہ شدت کا ہو گا۔

ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ 80 لاکھ افراد اس برفانی طوفان کے راستے میں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق میساچیوسٹس کے ساحلی علاقوں میں 75 میل فی گھنٹہ سے ہوائیں چلیں گی اور برفباری ہو گی۔

نیو ہیمپشائر کے علاقے کونکرڈ کی رہائشی کرسٹی کرےہیڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنا مکان چھوڑ کر اپنے دوستوں کے رہنے جا رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس جنریٹر ہے۔

کرسٹی نے بتایا ’میں نے کبھی بھی یہاں تک کہ کرسمس کے دنوں میں بھی دکانوں میں اتنا رش نہیں دیکھا۔ میں نے گیلن والی پانی کی بوتلیں خریدیں۔ اب دکانوں میں چھوٹی بوتلیں ہی رہ گئی ہیں۔ دکانیں تقریباً خالی ہو چکی ہیں۔‘

امریکی موسمیاتی چینل کا کہنا ہے کہ طوفان اس علاقے میں پیر سے بدھ تک جاری رہے گا اور ’ممکنہ تاریخی سرد طوفان شمال مشرقی امریکہ میں پروازوں کی منسوخی اور تاخیر اور ہوائی اڈوں کی بندش کی وجہ بن سکتا ہے۔‘

خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ حکام نے طوفان کے خدشے کی وجہ سے پہلے ہی نیویارک، بوسٹن اور دیگر ہوائی اڈوں سے اڑنے اور وہاں اترنے والی سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

بوسٹن کے میئر مارٹی والش نے بھی عوام سے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں: ’ہم بوسٹن کے ہر ایک شہری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہمسائے کی خبر گیری کرے چاہے وہ کوئی باہر پھرتا دکھائی دے یا آپ کے برابر والے مکان میں رہائش پذیر ہوں۔‘

خیال رہے کہ امریکہ کی شمال مشرقی ریاستیں نومبر 2014 میں بھی شدید برفانی طوفان کی زد میں آئی تھیں جس سے ریاست نیویارک میں سات جبکہ مجموعی طور پر 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں