مغرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف ’کٹھ پتلی‘ ہے: بشار الاسد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغرب کی حمایت یافتہ اتحاد اور ’قومی اتحاد‘ نے پہلے ہی اس بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا

روس کے دارالحکومت ماسکو میں شام میں امن کے مذاکرات کی نئی شروعات پر شام کے صدر بشار الاسد نے مغرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف جماعتوں کو ’کٹھ پتلیاں‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

جریدے دا فورن افیئرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر الاسد نے یہ سوال اٹھایا کے مغربی حمایت یافتہ لوگوں سے بات چیت کرنا نتیجہ خیز ہو گا یا نہیں۔

مغرب کی حمایت یافتہ اتحاد اور ’قومی اتحاد‘ نے پہلے ہی اس بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن ان جماعتوں کے پانچ ارکان نے ذاتی حیثیت میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کے دن شروع ہونے والے مذاکرات کی میزبانی روس کر رہا ہے جو صدر بشار الاسد کا قریبی اتحادی ہے۔ مذاکرات میں اپوزیشن کے 30 ارکان کی شرکت متوقع ہے۔

شام کے اقوام متحدہ کے مستقل نمائندے بشار جعفری کی قیادت میں ایک سرکاری وفد بدھ کو اپوزیشن کے ارکان کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

روسی وزیر خارجہ سرگی لاورو کا کہنا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کے ان مذاکرات کے ذریعے و سال سے جاری شام میں خانہ جنگی کا اختتام ممکن ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’مذاکرات ایک غیر جانبدار ملک میں ہونے چاہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوں‘

تاہم قومی اتحاد کے ذرائع نے روس کے غیر جانبدار ثالث ہونے پر شک کا اظہار کیا ہے۔

’مذاکرات ایک غیر جانبدار ملک میں ہونے چاہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوں۔‘

یاد رہے کہ شام میں خانہ جنگی بند کرانے کی دو کوششیں 2014 میں ناکام رہی تھیں۔

اسی بارے میں