یونان میں کفایت شعاری مخالف اتحادی حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سریزا کے رہنما تسیپراس نے انتخابات میں فتح کے بعد کہا ہے کہ یونانیوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے

اتوار کے روز بائیں بازو کی جماعت سریزا نے انتخابات جیتنے کے بعد دائیں بازو کی جماعت گریک انڈیپینڈنٹس کے ساتھ مل کر کفایت شعاری مخالف حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اتحاد کو یونان کے نئے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہے۔

سریزا کے سربراہ الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ یونان کا ’ذلت اور دکھوں‘ کا دور ختم کرنے کے لیے بیل آؤٹ قرضے کی شرائط پر دوبارہ بات کریں گے۔

کئی یورپی ملکوں نے انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ قرضے کی شرائط کا احترام کریں۔

سریزا کے جیتنے کے بعد یورو ڈالر کے مقابلے پر کمی واقع ہو گئی۔ یہ یورو کی قیمت میں گذشتہ 11 سال میں سب سے زیادہ کمی ہے۔

سریزا کے رہنمانے حامیوں کے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عہد کیا کہ وہ یونان کے بین الاقوامی بیل آؤٹ قرض کی شرائط پر ازسرِنو بات کریں گے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں تقریباً تمام ووٹ گنے جا چکے ہیں اور ابتدائی نتائج کے مطابق سریزا نے 149 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

یونان کی 300 رکنی پارلیمان کے ارکان کے انتخاب کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

ملک میں حکمران اتحاد کی قائد نیو ڈیموکریسی پارٹی کے سربراہ اور ملک کے موجودہ وزیراعظم اندونس سماراس نے شکست تسلیم کرتے ہوئے سریزا پارٹی کے رہنما تسیپراس کو فون پر مبارکباد دی ہے۔

تسیپراس نے انتخابات میں فتح کے بعد کہا ہے کہ ’یونانیوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔‘

اتوار کی شب ایتھنز میں اپنے حامیوں سے خطاب میں انھوں نے فتح کو ’سماجی وقار اور انصاف کی بحالی‘ قرار دیا اور کہا کہ یونان کی سیاست میں روایتی جماعتوں کے اکٹھ کو شکست ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونانی عوام نے اس الیکشن میں یورو زون کے بحران سے نمٹنے کے حکومتی منصوبے کو مسترد کر دیا

انھوں نے کہا کہ اقتدار چھوڑنے والی حکومت نے بچت اور کٹوتیوں کے جن اقدامات کو متعارف کروایا تھا وہ ختم کر دیے جائیں گے اور وہ یونان کو قرض دینے والوں کے ساتھ اس بارے میں قابلِ عمل سمجھوتے پر بات کریں گے۔

جماعت کے ترجمان پانوس سکورلیٹس نے یونانی ٹی وی کو بتایا کہ ’یہ واضح ہے کہ ہمیں تاریخی فتح ملی ہے جس سے وہ پیغام جاتا ہے جو نہ صرف یونانی بلکہ پورے یورپ کے عوام سے متعلق ہے۔‘

یونان کے وزیرِ صحت ماکس وریدس نے اپنی جماعت نیو ڈیموکریسی پارٹی کی شکست تسلیم کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہار چکے ہیں لیکن یہ شکست کیسی ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔‘

ایتھنز میں بی بی سی کے نامہ نگار گیون ہیوئٹ کا کہنا ہے کہ سائریزا کی فتح سے یورپ بھر کو دھچکا لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان نتائج سے واضح ہے کہ یونانی عوام نے یورو زون کے بحران سے نمٹنے کے اس حکومتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے جو جرمنی اور برسلز میں تیار کیا گیا تھا۔.

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سریزا پارٹی کی فتح سے یونان کے بازارِ حصص میں خوف کی کیفیت ہے کیونکہ اگر قرض دینے والے نئی شرائط پر تیار نہیں ہوتے تو یونان کے دیوالیہ ہونے اور یورو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان کی معیشت سنہ 2008 کی عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں تیزی سے زوال پذیر ہے

واضح رہے کہ یونان نے یورپی یونین، عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور یورپ کے مرکزی بینک سے ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے کیے جانے والے معاہدے کے تحت بجٹ میں زبردست کٹوتی برداشت کی ہے۔

یونان کی معیشت سنہ 2008 کی عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں تیزی سے زوال پذیر ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

نتائج پر عالمی ردعمل

الیکشن میں سریزا پارٹی کی فتح کے بعد فرانس کے صدر نے الیکسس تسیپراس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی یونانی حکومت کے ساتھ مل کر استحکام اور ترقی برقرار رکھنے کے لیے کام کریں گے۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ نتائج یورپ میں اقتصادی بےیقینی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

جرمنی کے مرکزی بینک کے سربراہ ہینس ویڈمین نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی یونانی حکومت ملک کے اقتصادی بحران کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یونان کو ان کے بینک کی جانب سے مزید معاشی مدد صرف اسی صورت میں ملے گی اگر وہ پرانے معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔

جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت نے یونانی الیکشن کے نتائج کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یورپ میں ایک نئے آغاز کی نشانی ہے۔

سپین میں بھی بچت کی مخالف جماعت پوڈیموس کے سربراہ پابلو اگلییئسس نے کہا ہے کہ یونان کے بعد اب سپین کی باری ہے جہاں تبدیلی کا وقت آنے والا ہے۔

خیال رہے کہ سپین میں بھی رواں برس عام انتخابات ہونے ہیں اور اس کی معیشت بھی اقتصادی بحران کا شکار ہے۔

اسی بارے میں