دنیا کے بلند ترین مینار کی تعمیر کا مقصد؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مسجد میں دنیا کا بلند ترین 265 میٹر (870) مینار تعمیر کیا جائے گا

الجزائر کے شمالی ساحل پر ایک وسیع مسجد میں دنیا کے بلند ترین مینار کی تعمیر ہو رہی ہے۔ اس انتہائی پرعزم منصوبے کے پس پشت کون سا جذبہ کار فرما ہے؟

الجزائر کی خلیج کے خفیف خم کے قدرے آگے عمارتوں کا ایک وسیع کمپلکس زمین سے بلند ہوتا نظر آ رہا ہے۔

ایک جانب الجزائر کی جامع مسجد کا گنبدوں والا ہال ہوگا اور دوسری جانب دنیا کا بلند ترین 265 میٹر (870) کا مینار آسمان سے باتیں کرتا ہوگا۔ اس کے ساتھ درسِ قرآن کے لیے ایک مدرسہ، ایک کتب خانہ، ایک میوزیم اور پھر کیاریاں اور پھلوں کے پیڑوں والے باغات پھیلے ہوں گے۔

لوگ یہاں اپنی کاروں، ٹرام یہاں تک کہ کشتی سے بھی آسکتے ہیں۔ اس کمپلیکس میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کی گنجائش ہے اور اسے بحیرۂ روم میں موجود ایک آبی سیرگاہ سے شاندار دو راہوں کے ذریعے منسلک کر دیا جائے گا۔

اس کے معماروں کے مطابق رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہوگی جبکہ یہ افریقہ کی سب بڑی مسجد ہوگي۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الجزائر کی موجودہ مساجد سائز میں بہت چھوٹی ہیں

الجزائر کی ہاؤزنگ اور شہری منصوبہ بندی کی وزارت کی ایک سینیئر اہلکار اوردا یوسف خوجہ نے تعمیر کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ اس صدی کے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ چاہتے ہیں کہ ’یہ مسجد اسلام کی اور الجزائر کے انقلاب کے شہدا کی یادگار ہو۔‘ واضح رہے کہ الجزائر نے ایک جنگ کے نتیجے میںسنہ 1962 میں فرانس سے آزادی حاصل کی تھی۔

الجزائر کی تیل کی دولت سے فنڈ کیے جانے والے دوسرے منصوبوں کی طرح اس مسجد کی تعمیر بھی بیرونی مہارت اور محنت کشوں پر منحصر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ابھی 30 فی صد کام ہی مکمل ہوا ہے

اس کا ڈیزائن جرمنی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر چینی سٹیٹ کنسٹرکشن انجینیئرنگ کمپنی کر رہی ہے اور یہاں ان کے سینکڑوں مزدور عارضی مکانوں میں رہتے ہیں۔

دوسرے پروجیکٹوں کی ہی طرح یہ بھی تاخیر کا شکار ہوئي ہے۔ حال ہی میں اس پروجیکٹ کو شہری منصوبہ بندی کی وزارت نے مذہبی امور کی وزارت سے لیا ہے۔ یوسف خوجہ کا کہنا ہے کہ ’انشاء اللہ‘ یہ سنہ 2016 کے اختتام تک مکمل ہو جائے گی۔

اس مسجد کو جس پیمانے پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس میں جو اخراجات آنے والے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس پر ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر اخراجات کا تخمینہ لگایا گيا ہے۔

اس کی تعمیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صدر بوتفلیقہ کے دور کی بھی یادگار ہو گی۔ اس کی دوسری وجہ الجزائر کی اپنے پڑوسی ملک مراکش سے روایتی مسابقت ہے۔ الجزائر کی مسجد اپنے رقبے اور بلندی میں کاسابلینکا کی حسن ثانی مسجد سے قدرے بڑی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس مسجد کو جدید خطوط پر تیار کیا جا رہا ہے

لیکن اس کے پس پشت ذرا گہرائی میں یہ کوشش بھی کارفرما ہے کہ اس کے ذریعے مذہبی شناخت قائم کی جائے اور مساجد اور اماموں پر کنٹرول حاصل کرکے اس کے فوائد حاصل کیے جائیں۔

مذہبیات کے ماہر الجزائر کے باشندے کمال ششاؤ کا کہنا ہے کہ ابھی تک الجزائر میں ایک بڑی اور جامع مسجد کی کمی تھی جسے یہ مسجد پورا کرے گي۔

ان کے خیال میں اس کی تعمیر کے فیصلے کے پس پشت اسلام پسندوں کو کمزور کرنا بھی ہے اور ایک قومی اسلام کا پیغام بھی ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر سنہ 1990 کی دہائی میں شدت پسندی کی زد میں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کا ڈیزائن جرمنی نے تیار کیا ہے

کمال کا کہنا ہے کہ ’آپ ایک ہزار چھوٹی مساجد تعمیر کروا لیں وہ نظر نہیں آتیں اور ان سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حکومت اسلام پر حاوی ہونے کی کوشش میں ہے اور اسلام کے لیے فخر محسوس کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں