گھڑی کے تحفے پر برطانوی وزیر کی معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

برطانوی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے تائیوان کے دارالحکومت ٹائی پے کے میئر کو تحفے میں گھڑی دینے پر معذرت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے گھڑی تحفے میں دینے میں اس بات کو نظر انداز کردیا کہ یہ چینی ثقافت میں کسی کو گھڑی دینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی وزیر سوزن کریمر نے کہا کہ ان کو اس بات کا بالکل خیال نہ رہا کہ چینی ثقافت میں کسی کو گھڑی دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ اس شخص کا وقت ختم ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ٹائی پے کے میئر کو وین ژے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گھڑی تحفے میں دیے جانے پر انھوں نے کہا تھا کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ شاید اس گھڑی کو ردی والے کو بیچ دیں۔

ان کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میئر مذاق کر رہے تھے۔

برطانوی وزیر برائے ٹرانسپورٹ سوزن کریمر نے ایک بیان میں کہا ’میں معذرت چاہتی ہوں۔ ہم ہر روز کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں۔ مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ اس تحفے کو منفی انداز میں لیا جائے گا۔ برطانیہ میں تحفے میں ملی گھڑی کو بہت پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وقت سے زیادہ قیمتی شے کوئی نہیں ہے۔‘

دوسری جانب میئر کے ترجمان نے کہا ہے کہ گھری کے بیچے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔