سعودی عرب کےدورے کےلیےبھارت کا دورہ مختصر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر براک اوباما بھارت کا تین روزہ دورہ مختصر کر کےامریکی اہلکاروں کے ایک بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ شاہ عبداللہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

براک اوباما نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں امریکہ کےسعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انسانی حقوق اور سلامتی میں ایک توازن رکھنا ضروری ہے۔

امریکی صدر کے ہمراہ جانے والے امریکی وفد میں تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان شامل ہیں۔ صدر اوباما کے وفد میں ممتاز ریپبلیکن اہلکاروں کے علاوہ سابق وزیر خارجہ جیمز بیکر، کانڈولیزا رائس امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان اوین برینن اور امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جیمز آسٹن بھی شامل ہیں۔

اپنے دورے کے دوران امریکی صدر نئے سعودی بادشاہ سلمان سے ملاقات کریں گے۔

سعودی عرب امریکہ کا اس خطے میں اہم اتحادی ہے۔

صدر اوباما نے سعودی عرب کے چار گھنٹے کے دورے کے لیے وقت نکالنے کے لیے تاج محل کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی بلاگر رائف بداوی کو کوڑے مارنے سے متعلق سعودی حکومت کے فیصلے پر بات نہیں کریں گے۔

رائف بداوی کو مذہب اسلام کی مبینہ ہتک کے جرم میں دس برس قید اور ہزار کورڑوں کو سزا دی گئی ہے۔ رائف بدوی کو ایک بار سرعام سو کوڑے لگائے جا چکے ہیں اور ابھی انھیں نو سو مزید کوڑے لگائے جانے ہیں۔ رائف بداوی کو دوسری بار کوڑے لگانے کی سزا ڈاکٹر کی رپورٹ کے بعد معطل کر دیا گیا تھا جس میں کہا تھا کہ بلاگر کو پہلی بار کوڑے لگائے جانے سے پیدا ہونے والے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں۔

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے سات عشروں سے قریبی تعلقات ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔ سعودی عرب کے حکمران شامی صدر بشار الاسد کے خلاف امریکی میزائل حملوں کے منصوبے پر عمل نہ کرنے سے ناراض ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے دوسرے کئی ممالک کی طرح سعودی عرب بھی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ سعودی عرب شدت پسند گروہ ریاست اسلامی کے خلاف امریکی حکومت کی کارروائیوں کا حامی ہے لیکن سمجھتا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بغیر دولت اسلامیہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔

براک اوباما سعودی عرب کے دورے کے دوران صرف مرحوم بادشاہ کی تعزیت کریں گے۔

امریکی صدر کے علاوہ بہت سے عالمی رہنماؤں نے شاہ عبداللہ کی موت پر تعزیت کے لیے ریاض کا رخ کیا ہے۔

اسی بارے میں