’مغربی یورپ سے 550 خواتین جہادی شام اور عراق گئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی ہلاکت سے جہادی بیواؤں کی ایسی نئی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو جنگ کرنے کی خواہشمند ہے

برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ سے 550 خواتین اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے شام اور عراق جا چکی ہیں۔

یہ اعداد و شمار انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی تازہ رپورٹ میں دیے گئے ہیں۔

یورپی خواتین کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے معاملے پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین جہادیوں کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔

اس رپورٹ میں ان خواتین کے شدت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کے عمل اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس سوال کے جواب کو ڈھونڈا گیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین سب کچھ چھوڑ کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنےگئی ہیں۔

رپورٹ میں اس سلسلے میں کئی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کی وجوہات میں سے ایک ذاتی رنجشیں اور دوسری جہادیوں سے شادی کی خواہش ہے۔

آئی ایس ڈی کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی خواتین کو اس بارے کا علم نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا خطرہ مول لے رہی ہیں اور یہ خواتین نہیں جانتیں کہ وہ گرفتار یا ہلاک ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس برطانیہ میں لاپتہ ہونے والی یسریٰ حسین کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شام جا چکی ہیں

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطرات کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ان خواتین میں سے بڑی تعداد واپس نہیں لوٹی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی جہادی خواتین کو واپس برطانیہ آ رہی ہیں ملک کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

مصنفین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری سے بڑی تعداد میں جنگجو مر رہے ہیں اور ’بلیک وڈوز‘ یا سیاہ بیواؤں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر میدانِ جنگ میں جانے کے لیے پرجوش ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی سینیئر محقق اور ادارے میں خواتین اور انتہاپسندی کے عنوان سے چلنے والے پروگرام کی روحِ رواں ایرن سالٹ مین کا کہنا ہے کہ یورپی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی بڑی تعداد میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں کا رخ کر رہی ہیں اور ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

انھوں نے کہا کہ خواتین تاحال تو جنگ میں شریک نہیں لیکن یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے اور بہت سی خواتین لڑائی میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔

ایرن سالٹ مین نے یہ بھی کہا کہ جب یہ خواتین دولتِ اسلامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پہنچ جاتی ہیں تو انھیں ان کی امید کے عین مطابق حالات نہیں ملتے اور انھیں امتیازی سلوک اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا رہتا ہے۔

اسی بارے میں