’ہائر می‘ کے پانچ ماہ بعد ’آئی ایم ہائرنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پانچ ماہ گزرنے کے بعد وہ دوبارہ اسی ٹرین سٹیشن یعنی واٹر لو سٹیشن پر ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں اس بار پلے کارڈ مختلف ہے۔ اس بار ان کے ہاتھ میں جو پلے کارڈ ہے اس پر درج ہے ’میں ہائر کر رہا ہوں‘

برطانیہ کی کونٹری یونیورسٹی سے گریجوئیٹ ہونے والے ایلفرڈ اجانی کی 300 نوکری کی درخواستوں مسترد ہوئیں۔

ان درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ برطانیہ کے مصروف ترین ٹرین سٹیشن واٹر لو سٹیشن جا کر پلے کارڈ پر ’ہایر می‘ لکھ کر لوگوں سے نوکری مانگیں گے۔

ان کی یہ ترکیب کام کر گئی اور چند ہی ہفتوں میں ان کو نوکری مل گئی۔

لیکن پانچ ماہ گزرنے کے بعد وہ دوبارہ اسی ٹرین سٹیشن یعنی واٹر لو سٹیشن پر ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں اس بار پلے کارڈ مختلف ہے۔ اس بار ان کے ہاتھ میں جو پلے کارڈ ہے اس پر درج ہے ’میں ہائر کر رہا ہوں‘۔

ایلفرڈ نے نیوز بیٹ کو بتایا ’میں اسی جگہ واپس گیا۔ اور اب تک میرے پاس 90 لوگوں کے بائیو ڈیٹا ہیں۔‘

22 سالہ ایلفرڈ کو پچھلے سال اگست میں ایک کنسلٹنٹ کی نوکری ملی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب میں لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مجھے نوکری کی آفرز اسی وقت ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ میں جب واٹر لو سٹیشن سے گھر پہنچا تو تقریباً 1000 ٹویٹس اور پیغامات آئے ہوئے تھے‘

ایلفرڈ نے بتایا کہ جب ان کو نوکری نہیں مل رہی تھی تو ’سوچا کہ واٹر لو سٹیشن سے 30 سیکنڈ کے فاصلے پر رہتا ہوں کیوں نا وہاں جا کر نوکری مانگنے کی کوشش کروں‘۔

ان کا کہنا ہے ’مجھے نوکری کی آفرز اسی وقت ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ میں جب واٹر لو سٹیشن سے گھر پہنچا تو تقریباً 1000 ٹویٹس اور پیغامات آئے ہوئے تھے۔‘

ایلفرڈ کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ بعد وہ اسی جگہ آیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو بتا سکیں کہ نوکری کے لیے کچھ مختلف کریں۔