تعلقات استوار کرنے سے پہلے گوانتانامو بے ہمیں واپس کریں: کاسترو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 1903 میں کیوبا کے اس وقت کے رہنماؤں نے امریکہ کو گوانتانامو بے لیز پر دیا تھا

کیوبا کے صدر نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ملکوں میں روابط معمول پر لانے سے قبل گوانتانامو بے فوجی اڈہ کیوبا کو واپس کیا جائے۔

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے یہ بات کوسٹا ریکا میں لاطینی امریکہ کے اجلاس کے دوران کہی۔

کیوبا کے صدر نے مزید کہا کہ امریکہ کیوبا پر عائد پابندیاں اٹھائے اور کیوبا کی نام دہشت گرد ممالک کی فہرست سے ہٹائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کیا ہے جو 1961 میں ختم کردیے گئے تھے۔

دونوں ملکوں کے اعلیٰ عہدیداروں میں پچھلے ہفتے مذاکرات بھی ہوئے ہیں۔ امریکی کانگریس کا ایک وفد ہوانا پہنچا ہے جہاں ایک دوسرے کے دارالحکومت میں سفارت خانہ کھولنے پر بات چیت ہو گی۔

راؤل کاسترو نے کہا سفارتی تعلقات کو بحال کرنا باہمی تعلقات کو بحال کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

’لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم پر پابندیاں عائد ہیں اور گوانتانامو بحری اڈے نے ہمارے علاقے پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔‘

یاد رہے کہ 1903 میں کیوبا کے اس وقت کے رہنماؤں نے امریکہ کو گوانتانامو بے لیز پر دیا تھا۔

اس بیان پر امریکہ کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو نے سیاسی تعلقات ہموار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

کیوبا کے ریاستی اخبار نے کاسترو کا ایک خط شائع کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ’ہم ہمیشہ دنیا بھر کے لوگوں سے تعاون اور دوستی کو دفاع کریں بشمول اپنے سیاسی حریفوں کے۔‘

کاسترو نے خط میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ امریکی پالیسیوں پر اعتماد نہیں کرتے لیکن لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تنازعات کا پرامن حل نہیں چاہتے۔

اسی بارے میں