’مزید تشدد نہیں چاہتے‘، حزب اللہ کا اسرائیل کو پیغام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس کے ترجمان سمیع ابُو زہری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج پر یہ حملہ جائز تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کا ایک پیغام ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تنظیم مزید تشدد نہیں چاہتی۔

یہ پیغام اسرائیل اور لبنان کے سرحدی علاقے میں حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے اگلے دن سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے یعلون کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج اس واقعے کے بعد مستعد ہیں اور کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں کی سرحدی دیہات کے اوپر پروازیں جاری ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ لبنان سے متصل سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوجی قافلے پر جان لیوا حملے کے ذمہ داروں کو اپنے کیے کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔

بدھ کو متنازع شیباعہ کے علاقے میں ایک فوجی گاڑی پر ٹینک شکن میزائل سے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بعد مغربی لبنان کے کئی علاقوں میں گولہ باری بھی کی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی تصادم کے نتیجے اس کا سپین سے تعلق رکھنے والا ایک امن فوجی ہلاک ہوا ہے۔

حزب اللہ نے اس حملے کی ذمہ دار قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ شام میں اس کے جنگجوؤں پر دس روز قبل ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کا جواب ہے جس میں ایک ایرانی جنرل اور حزب اللہ کے چھ جنگجو مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حزب اللہ کے حملے کے بعد اسرائیلی گاڑیوں میں آگ لگ گئی

خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعرات کو نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس فرانس کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے سکیورٹی امور پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کوئی بھی اس حملے کے پیچھے ہے، اسے اس کی پوری قیمت چکانا ہوگی۔ کچھ عرصے سے ایران، گولان کے پہاڑی علاقے میں حزب اللہ کے ذریعے ہمارے خلاف ایک اور دہشت گرد محاذ کھولنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کے خلاف ہم سخت اور ذمہ دارانہ کارروائی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے لبنان اور شام کو بھی اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’لبنانی حکومت اور شامی صدر بشار الاسد پر بھی ایسے حملوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ان کے علاقوں سے ہورہے ہیں۔ ان تمام واقعات کی صورت میں ہمارا مقصد اسرائیلی کی ریاست کا دفاع کرنا اور اسرائیلی ریاست اور شہریوں کی سلامتی ہے۔ اس لیے ہم نے کارروائی کی اور کارروائیاں کرتے رہیں گے۔‘

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنی گماشتہ دہشتگرد تنظیم حزب اللہ کے ذریعے اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ ایران اور دہشتگرد جنوبی شام میں ایک نیا دہشت گرد اڈہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے ہی جیسا لبنان میں ہے۔ یہ وہی ایران ہے جو پوری دنیا میں دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے جو جوہری طاقت بننے کی کوشش کررہا ہے۔ اپنی سرحدوں کے دفاع اور لوگوں کے تحفظ کے لیے ہمیں جو کرنا پڑا ہم کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل پر حملے کی خبر سننے کے بعد لبنان میں حزب اللہ کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر نعرے بازی کی

دوسری طرف غزہ میں حماس کے ترجمان سمیع ابُو زہری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج پر یہ حملہ جائز تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حماس حزب اللہ کے اسرائیلی جرائم کا جواب دینے کے حق کی توثیق کرتی ہے۔ شمال میں قابض فورسز اپنے کیے کی قیمت ادا کر رہی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے اس سے قبل نیتن یاہو کی بیوقوفی کی وجہ سے غزہ میں اس کی قیمت ادا کی۔‘

اقوامِ متحدہ نے اس ساری صورت حال میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تحمل اور برداشت کے مظاہرے پر زور دیا ہے۔ لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کے سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ ’فریقین حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے حتی الامکان تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

اسی بارے میں