دولتِ اسلامیہ میں نومسلم خواتین کی دلچسپی

داعش تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دولتِ اسلامیہ میں نومسلم خواتین کی دلچسپی بڑھی ہے

’وہ کرنے سے نہ ڈریں جو آپ سمجھتی ہیں کہ بہتر ہے۔ اسلام کے دشمنوں سے بہت دور رہنا ہی بہتر ہے۔ ان کے قریب نہ رہیں۔‘

خیال ہے کہ یہ ایک نوجوان برطانوی لڑکی کا ٹویٹ ہے جو دولتِ اسلامیہ کے قبضے والے علاقوں میں رہ رہی ہے۔ وہ ان بہت سی لڑکیوں کی طرح جو دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول والے علاقوں میں منتقل ہو گئی ہیں، اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر نئی خلافت کے عہد میں زندگی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے گزارتی ہیں۔

ان کے سوشل میڈیا پر پیغامات اور برطانوی گلیوں میں استعمال کی جانے والی مذہبی اصطلاحات سے بھری عام مخلوط زبان سے ان کی اصل عمر کا پتہ نہیں چلتا۔ عموماً ان کی زبان اشتعال انگیز اور حالیہ اور تاریخی واقعات کے حوالے سے بہت مخصوص ہوتی ہے۔

لیکن ورچوئل دنیا اور اس دھندلی جنگ میں جو زیادہ تر پروپیگنڈا پر لڑی جاتی ہے، اس طرح کے پیغامات دونوں مرد اور خواتین برطانوی نوجوانوں تک بڑے صاف اور واضح طریقے سے پہنچتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی مذہبی قسمت اور اپنائیت کی حس دنیا کے دوسرے کونے میں ہی جا کر مکمل ہو گی۔

ایک حالیہ تحقیق میں انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً تین ہزار یورپی شام اور عراق جا چکے ہیں جن میں پانچ سو کے قریب خواتین ہیں۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ان میں سے برطانوی کتنے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اکاؤنٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی بڑی تعداد شامل ہے۔

اس رپورٹ میں جسے ’بیکمنگ ملان‘ کہا جا رہا ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ عورتوں کے لیے کشش کا باعث وہ احساس ہے کہ وہاں مسلمانوں کے لیا نیا گھر بنایا جا رہا ہے۔ البتہ کچھ نے جنگ لڑنے کی رضامندی کا بھی اظہار کیا ہے۔ اس رپورٹ کے عنوان کے لیے ایک لڑکی کا ٹویٹ استعمال کیا گیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہے کہ ’ملان کو کھینچ کر‘ شام لے جائے۔ اس میں اس چینی افسانوی لڑکی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو فوج میں اپنے باپ کی جگہ بھیس بدل کر حصہ لیتی ہے۔ جس پر ڈزنی نے ایک کارٹون فلم بھی بنائی تھی۔

رپورٹ کے مشترکہ مصنف راس فرنیٹ نے بتایا ہے کہ یہ کیوں دلچسپ ہے: ’ہمیں یہ خصوصاً نمایاں اس لیے لگا کہ اس میں اس نے جو پہلا ثقافتی حوالہ دیا وہ درحقیقت ڈزنی کی ایک فلم کا تھا، جو کہ مسحور کن ہے کیونکہ یہ لوگ مغربی ہیں، اور بیک وقت مغربی معاشرے سے نفرت بھی کرتے ہیں۔‘

اصل میں یہ شیزوفرینک رویہ اور زبان ہی اس رجحان میں تجسس پیدا کر دیتا ہے۔ عراق اور شام میں سمجھے جانے والے ان لوگوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور فیس بک ٹائم لائنز اس حوالے سے بہت ہلا دینے والی ہیں۔ ایک منٹ میں وہ ڈزنی کا حوالہ دے رہے ہیں یا ایک کتے کے بچے کو گلاٹیاں ڈالتے دکھاتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے شخص کا یا تو سر کاٹا جا رہا ہے یا اس پر سب کے سامنے تشدد کیا جا رہا ہے۔

لیکن وہ چاہتے کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption نوجوان لڑکیوں کی شادی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتی کیونکہ دولتِ اسلامیہ کے اکثر جنگجو ہلاک ہو جاتے ہیں

فرینیٹ کہتے ہیں کہ جو عورتیں وہاں کا سفر کرتی ہیں ان کو بھی تقریباً مردوں جیسی تحریک ہی ہوتی ہے: ’نظریاتی وجوہات جن میں خلافت قائم کرنے کی خواہش، مغرب سے نفرت لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلق ڈھونڈنے یا بہناپے کی جستجو ہے۔ ہمیں یہ ان مردوں میں نظر آتی ہے جو لڑتے ہیں لیکن جو چیز اسے مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے اس علاقے میں ان کا کوئی کردار ہے جو کہ ان کے پاس افغانستان یا بلقان میں نہیں تھا، کیونکہ وہ یہاں ایک ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اس ریاست بنانے کے عمل میں کچھ نے اپنا کردار گھر چلانے والے کا رکھا ہے اور بہت سی خواتین نے جہادی شوہر ڈھونڈے ہیں۔ ان کے مطابق جنگجوؤں سے شادی کی وجہ عورت کو گھر اور دوسرے دیگر استحقاق مل جاتے ہیں۔

ان میں سے اکثر شادیاں تھوڑے عرصے چلتی ہیں کیونکہ غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کے شوہر مر رہے ہیں۔ اکثر عورتیں ٹوئٹر پر اپنے شوہر کی ہلاکت پر خدا کا شکر کرتی ہیں اور انھیں شہید کہتی ہیں۔

ایک برطانوی لڑکی کی چھوٹی عمر اور بھول پنے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ جب مجھے اپنے شوہر کی موت کا پتہ چلا تو ’مجھے یقین نہ آیا سو میں ہنسنے لگ پڑی اور وہ بالکل ایل او ایل (لاف آؤٹ لاؤڈ) کی طرح تھا۔‘

اسی بارے میں