’دولتِ اسلامیہ کا کیمیائی ہتھیاروں کا ماہر بمباری میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ابو مالک کی ہلاکت کے بعد کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی دولت اسلامیہ کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے‘

امریکی فوج نے ایک بیان میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر ابومالک کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے مطابق ابو مالک 24 جنوری کو موصل کے قریب اتحادی ممالک کے طیاروں کی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ پر خصوصی ویڈیو دیکھیے

بیان کے مطابق ’ابو مالک کی تربیت کے باعث دولتِ اسلامیہ کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی جانب گامزن تھی۔‘

امریکی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ابو مالک عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت میں کیمیائی ہتھیاروں کے انجینیئر تھے اور بعد میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابو مالک کی ہلاکت کے بعد کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی دولت اسلامیہ کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ کئی بار دولت اسلامیہ پر کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن اس کے پاس بہت سارے کیمیائی ہتھیارموجود ہونے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج پرامید ہے کہ عراقی فوج موصل پر دوبارہ قبضہ کر لے گی تاہم امریکی فوج میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ عراقی فوج ابھی زمینی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

امریکہ اور اتحادیوں نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اب تک دو ہزار مرتبہ بمباری کی ہے۔

اسی بارے میں