جاپانی شہری کی’ ہلاکت‘ پر عالمی غم و غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کینجی گوٹو جاپانی صحافی تھے اور وہ ایک اور جاپانی شہری کو تلاش کرنے شام گئے تھے

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ایک آن لائن ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں بظاہر جاپان کے یرغمالی صحافی کینجی گوٹو کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جاپان نے اس ویڈیو پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاپانی یرغمال کینجی گوٹو کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزیراعظم شنزو آبے نے کہا: ’جاپان دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا،‘ اور یہ کہ ’وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے ممالک کے ساتھ تعاون میں اضافہ کریں گے۔‘

دولتِ اسلامیہ نے کہا ہے کہ اس نے جاپانی شہری کو اس لیے پکڑا تھا کہ جاپان اس کے خلاف جنگ میں مدد دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ ویڈیو ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کا سر قلم کرنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سامنے آئی ہے۔

47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ

وزیرِ اعظم آبے نے صحافی کے قتل کو ’گھناونا عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاپان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرے گا۔

گوٹو کی والدہ جنکو اشیدو نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی موت پر صدمے کی حالت میں ہیں اور کہا کہ وہ ’ہمدردی اور بہادری‘ کے جذبے کے تحت شام گئے تھے۔

ان کے بھائی جونیچی نے جاپانی ٹیلی ویژن این ایچ کے کو بتایا: ’میں امید کر رہا تھا کہ وہ زندہ بچ آئیں گے۔‘

جاپانی حکومت کے ترجمان یوشی ہیدے سوگا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس ویڈیو کے سامنے آنے سے ’غم سے نڈھال‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جاپانی کابینہ اپنے ہونے والے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

عالمی ردِ عمل:

امریکی صدر براک اوباما:

’امریکہ دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاپانی شہری اور صحافی کینجی گوٹو کے وحشیانہ قتل کی مذمت کرتا ہے۔ گوٹو نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے شامی لوگوں کی مصیبت کو دنیا کے سامنے لانے کی دلیرانہ کوشش کی۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون:

’میں کینجی گوٹو کے نفرت انگیز قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ ایک اور یاددہانی ہے کہ دولتِ اسلامیہ مجسم بدی ہے اور اسے انسانی زندگی کا کوئی پاس نہیں ہے۔‘

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند:

میں داعش کی جانب سے جاپانی شہری کینجی گوٹو کے وحشیانہ قتل کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ فرانس اس مشکل وقت میں جاپان کے ساتھ ہے۔‘

آسٹریلوی وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ:

اگر یہ بات درست ہے تو یہ جاپان کے عوام کے لیے بہت بڑا سانحہ اور (کینجی گوٹو کے) خاندان کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تمام ملکوں کو اس موت کے گروہ کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ پر سے اس نئے تاریک دور کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹوکیو میں کینجی گوٹو کی دولتِ اسلامیہ کے جانب سے یرغمال بنائے جانے کے خلاف مظاہرہ

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے منگل کو ایک ویڈیو میں معاز اور کینجی کی ہلاکت کا الٹی میٹم جاری کیا تھا۔

اس ویڈیو میں گوٹو کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ ان کے پاس ’زندہ رہنے کے لیے صرف 24 گھنٹے بچے ہیں‘ اور اگر اردن ساجدہ الرشاوی کو رہا نہیں کر دیتا تو اردن کے یرغمال بنائے جانے والے معاذ الكساسبہ کے پاس اس سے بھی کم ۔‘

دولتِ اسلامیہ اس سے قبل ایک اور جاپانی یرغمالی ہارونا یوکاوا کو قتل کر چکی ہے جن کی رہائی کے بدلے 20 کروڑ ڈالر تاوان مانگا گیا تھا۔

شدت پسند تنظیم ساجدہ الریشاوی نامی جس خاتون کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے وہ القاعدہ کی جنگجو ہیں جنھیں اردن میں 2005 میں ایک حملے کا مجرم پایا گیا تھا جس میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں