سپین بھی یونان کے نقشِ قدم پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حالیہ سروے میں پوڈیموس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

سپین میں بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس کی جانب سے میڈرڈ میں منعقد کی گئی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

اس ریلی کو ’تبدیلی کے لیے مارچ‘ کا نام دیا گیا تھا، یہ پارٹی کی پہلی بڑی ریلی ہے جو یونان میں اس کے قریبی اتحادی سیریزا کی حالیہ کامیابی کے بعد نکالی گئی ہے۔

حالیہ سروے میں پوڈیموس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پارٹی کا کہنا ہے کہ الیکشن جیت کر وہ سپین کے کچھ قرضے معاف کروانے کی کوشش کرے گی۔

پوڈیموس کا کہنا ہے کہ ’سیاستدانوں کو نجی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے بجائے لوگوں کی خدمت کرنے چاہیے۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جلوس سے خطاب کرتے ہوے پوڈیموس کے رہنما ’پابلو ایگلسیاس‘ کا کہنا تھا کہ ’ ہم تبدیلی چاہتے ہیں، مجھے پتہ ہے کہ حکومت چلانا مشکل کام ہے مگر جن کے خواب سچے ہوں وہ تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘

اس ریلی کے لیے مظاہرین انہی گلیوں میں جمع ہیں جن میں گزشتہ چھ سال کے دوران مختلف حکومتوں کی طرف سے عائد مالیاتی شرائط کے خلاف کئی اجتماعات منعقد کیے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپین کی عوام میں سیاسی کرپشن اور عوامی اخراجات میں کمی کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔

ریلی میں شریک ’جوزئے ماریا جیکبو‘ نامی شخص کا خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ لوگوں کو مفاد پرست سیاسی طبقے کے خلاف لڑنا پڑے گا، یہ واحد طریقہ ہے ان سیاستدانوں سے جان چھڑانے کا جنھوں نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ہے، وہ ہماری خوداری بھی چھیننا چاہتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

خیال رہے کہ سپین کی عوام میں سیاسی کرپشن اور موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس سے پہلے سوشلسٹ پارٹی کی حکومت کی جانب عوامی اخراجات میں کمی لاگو کرنے پر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب دونوں بڑی روائتی جماعتوں نے پوڈیموس کو، جسے بنے ہوئے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا ہے، عواميت پسند جماعت قرار دیا ہے۔

پوڈیموس یونان میں حالیہ الیکشن جیتنے والی جماعت ’سیریزا‘ کی قریبی اتحادی ہے اور اس کی پالیسیاں بھی ان سے ملتی جلتی ہیں۔

آج کی اس بڑی ریلی کے ذریعے پوڈیموس نے ملک کی روائتی جماعتوں اور یورپ کو اپنی مقبولیت کا پیغام پہنچا دیا ہے۔

ملک کے وزیر اعظم ’ماریانو راجوئے‘ نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نئے آنے والے چاند اور سورج توڑ کر لانے کا وعدہ کر رہے ہیں، مگر وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکیں گے۔‘

سپین کے مختلف ذرائع ابلاغ نے پوڈیموس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پارٹی پر وینزویلا کے بائیں بازو کے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور پارٹی کے کچھ قائدین پر مالی بےضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔

ان الزامات کے جواب میں پارٹی نے اپنے رہنماوں کے ٹیکس گوشوارے شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی رہنما پابلو ایگلسیاس کا کہنا ہے کہ ’یونان میں سیریزا کی کامیابی سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ اگرچہ سرکاری طور پر سپین میں مالی بحران ختم ہو چکا ہے مگر اب بھی ہر چار میں سے ایک شخص بے روز گار ہے۔

اسی بارے میں