’مصر نے الجزیرہ کے صحافی پیٹر گریسٹا کو رہا کردیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پیٹر گریسٹا کو دسمبر 2013 کو اُن کے دو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اور پولیس کے حکام کے مطابق الجزیرہ کے صحافی پیٹر گریسٹاکو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کر کے آسٹریلیا بھجوا دیا جائے گا جبکہ قاہرہ کے ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق وہ ایک پرواز پر قبرص روانہ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل مصری حکام نے یکم جنوری مصر کی اعلیٰ عدالت نے غلط خبریں پھیلانے کے الزام میں جیل میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد فہمی کو کینیڈا ملک بدر کر دیا جائے جب اُن کی مصری شہریت ختم ہو جائے گی۔

ایک مصری اہلکار نے اے ایف پی کو اتوار کے دن بتایا کہ ’ایک صدارتی فیصلہ ہے جس کے مطابق پیٹر گریسٹاکو آسٹریلیا ملک بدر کر دیا جائے گا۔‘

پیٹر گریسٹاکا تعلق آسٹریلیا سے ہے، اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں، جب کہ ان کے پروڈیوسر محمد فہمی کے پاس مصر اور کینیڈا کی شہریت ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پیٹر گریسٹاکو دسمبر 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا اور گذشتہ سال جون میں جھوٹی خبریں پھیلانے کے جرم میں قید کر دیا گیا تھا۔

یکم جنوری کو قاہرہ میں پبلک پراسیکیوٹر کے ایک بیان کے مطابق ان تینوں افراد کے خلاف دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے اور اس تنظیم کو ساز و سامان فراہم کرنے کے علاوہ تین دیگر الزامات ہیں۔

اب تک الجزیرہ کے قید تیسرے صحافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے جن کا نام باہر محمد ہے۔

ایک مصری اہلکار کے مطابق اس رہائی کے سلسلے میں آسٹریلیا کے قاہرہ میں سفارت خانے کی معاونت لی گئی ہے۔

Image caption پیٹر گریسٹا کے ساتھ اُن کے پروڈیوسر محمد فہمی جن کے پاس مصر اور کینیڈا کی دوہری شہریت ہے اور قاہرہ کے بیورو چیف باہر محمد ہیں قید رہے ہیں

قاہرہ کے ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ گریسٹا کو ایک طیارے پر قبرص روانہ کیا گیا۔

بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ مصری قانون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جس شخص کو ملک بدر کیا جائے ان حالات میں اسے یا تو اپنی سزا کو اپنے ملک میں پورا کرنا ہو گا یا اسے دوبارہ مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آسٹریلیا کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے۔

مصطفیٰ سواگ جو الجزیرہ میلایا نیٹ ورک کے ڈائریکٹر جنرل ہیں نے کہا کہ ’ہم پیٹر کی رہائی اور ان کے خاندان سے اُن کی دوبارہ ملاقات کا سن کر بہت خوش ہیں۔ یہ ایک بہت زبردست اور بے انصافی والا تکلیف دہ عمل تھا اور انہوں نے اس بہت عزت اور وقار سے جھیلا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک باہر اور محمد کو رہائی نہیں مل جاتی۔ مصری حکام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس سارے معاملے کو آج مکمل طور پر ختم کر دیں۔ اور انہیں چاہیے کہ وہ ایسا ہی کریں۔‘

یاد رہے کہ یکم جنوری کو وکلائے صفائی کے مطابق استغاثہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے قبل دیے گئے فیصلے میں بڑے مسائل موجود تھے۔ نیا مقدمہ ایک ماہ کے اندر اندر شروع ہو جائے گا لیکن اس عرصے کے دوران تینوں کو حراست ہی میں رہنا ہو گا۔

صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔

2013 میں مصری فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

Image caption ان صحافیوں کو قید کرنے کے خلاف دنیا بھر میں صحافیوں نے احتجاج کیا

پیٹر گریسٹاکا تعلق آسٹریلیا سے ہے، اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں، جب کہ ان کے پروڈیوسر محمد فہمی کے پاس مصر اور کینیڈا کی شہریت ہے۔

قاہرہ میں ہماری نامہ نگار اورلا گیورن نے اس قبل بتایا تھا کہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل قطر کی ملکیت ہے اور حال ہی میں قطر اور مصر کے تعلقات میں نرمی پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امیدیں بڑھی ہیں کہ بالآخر ان صحافیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔

صدر السیسی نے ماضی میں کہا تھا کہ ان صحافیوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے اگر انھیں ملک بدر کر دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

اس مقدمے کے حوالے سے حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا مقصد ان کی غیر مشروط رہائی ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں