بحرین میں نیا عربی چینل افتتاح کے دن ہی بند

تصویر کے کاپی رائٹ al arab
Image caption ارب پتی سعودی تاجر شہزادہ الولید بن طلال نے کہا تھا کہ العرب سیاسی طور پر غیر جانب دار خبریں نشر کرے گا

بحرین میں ایک نئے عربی ٹی وی چینل کے افتتاح کے چند گھنٹوں بعد ہی اس کی نشریات بند کروا دی گئی ہیں۔

ارب پتی سعودی تاجر اور موجودہ بادشاہ کے سوتیلے بھتیجے شہزادہ ولید بن طلال ’العرب‘ نامی اس چینل کے مالک ہیں۔

انھوں نے پیر کو اس چینل کا افتتاح کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ سیاسی خبریں نشر کرنے کے لیے آزاد ہو گا۔

چینل پر بلائے جانے والے پہلے مہمانوں میں بحرین کی حزب اختلاف سے ایک مشہور شخصیت بھی شامل تھی جس کے بعد حکومت نے چینل پر تنقید شروع کر دی۔

العرب کا کہنا تھا کہ اس کی نشریات ’تکنیکی اور انتظامی‘ وجوہات کے باعث بند کی گئی ہیں۔

چینل نے اس کے بعد اشتہارات نشر کرنے شروع کر دیے اور کہا کہ اس کی نشریات جلد بحال کی جائیں گی۔

بحرین کے اخبار الخلیج کا کہنا ہے کہ چینل اس لیے بند کیا گیا ہے کیونکہ وہ ’خلیجی ممالک کی اقدار کے مطابق نہیں چل رہا تھا۔‘

خلیل مرزوق بحرین کے سنی شاہی خاندان کے مشہور نقاد ہیں اور انھوں نے اس چینل پر انٹرویو دیا تھا، جس کے دوران انھوں نے بحرینی حکومت کے حالیہ فیصلے کے بارے میں بحث کی جس میں حکومت نے 72 لوگوں سے ان کی شہریت چھین لی تھی۔

گذشتہ سال بحرین کی حزب اختلاف کی تنظیم وفاق کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خلیل کو ’دہشت گردی پر اکسانے‘ کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔

بحرین 2011 سے شیعوں کی بغاوت کے بعد بدامنی کا شکار رہا ہے۔ ملک کی اکثریتی شیعہ قیادت اپنے لیے زیادہ حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

العرب کے جنرل مینیجر جمال خشوگی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چینل نے بحرین سے اپنی نشریات جاری کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ سعودی عرب آزاد چینلوں کو نشریات کی اجازت نہیں دیتا۔

اسی بارے میں