کوبانی: دولت اسلامیہ کے بعد تباہی کا منظر

تصویر کے کاپی رائٹ HIKMET DURGUN
Image caption دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں کوبانی کا شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا

مرکزی کوبانی میں آزادی چوک کے پاس دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے دوران ہونے والی تباہی کا منظر آپ کو صاف دکھائی دیتا ہے۔

مشرق کی طرف دیکھیں تو مکمل تباہی دکھائی دیتی ہے۔ گھر، عمارتیں، دکانیں اور سڑکیں بالکل ختم ہو چکے ہیں۔

شہر کے ثقافتی سینٹر میں تباہ شدہ لیکچر تھیٹر کے اوپر ایک دیوار پر دولت اسلامیہ کے ایک جنگجو ابو تراب نے عربی میں علاقے والوں کو دھمکی لکھی ہوئی ہے کہ علاقے میں ’خون، خون، سر قلم ہوں گے اور تباہی مچے گی۔‘

دولت اسلامیہ نے یہ سب کیا تو ہے، لیکن پوری طرح نہیں۔ کوبانی ٹوٹا ضرور ہے، لیکن ہارا نہیں۔

کردوں نے بھی دولت اسلامیہ کی دھمکیوں کا جواب دیا ہے۔ ایک کرد جنگجو نے ابو تراب کی تحریر کے نیچے لکھا ہوا ہے کہ ’کوبانی دولت اسلامیہ کا قبرستان ہے۔‘

چند گز کے دوری پر دولت اسلامیہ کے تین جنگجوں کی لاشیں سڑ رہی ہیں۔ ایک اتحادی فضائی حملے کے دھماکے نے ان کے چیتھڑے اڑا دیے۔ گٹر میں ایک کھوپڑی پڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

کئی ماہ تک دولت اسلامیہ اور کردوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا ہے۔ یہاں پر اب بھی کئی خطرات موجود ہیں۔ پورے علاقے میں مارٹر گولے پڑے ہوئے ہیں، کچھ تو پھٹے بھی نہیں ہیں۔

Image caption پورے علاقے میں مارٹر گولے پڑے ہوئے ہیں جو پھٹے بھی نہیں

دولت اسلامیہ چلی گئی لیکن یہ جگہ ابھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ اس لڑائی میں سینکڑوں کرد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس دوران دولت اسلامیہ کے ایک ہزار سے زائد جنگجو بھی مارے گئے۔

علاقے کے زیادہ رہائشی کوبانی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اور جو نہیں گئے وہ سڑکوں کو بند کر دیتے ہیں تاکہ وہ دولت اسلامیہ کی نظروں سے بچ سکیں۔

لڑائی کے دوران رحیمہ اور ان کے 12 رشتہ دار اور ان کے بچے سردی اور اندھیرے میں رہے لیکن یہاں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم نے بہت سی مشکلوں کا سامنا کیا ہے۔ ہم بھوکے اور پیاسے تھے لیکن ہم کرد جنگجوں سے مختلف تو نہیں ہیں۔ وہ یہاں رہے اور ہم بھی نہیں گئے۔ جب ان کے پاس خوراک ہوتی تھی وہ ہمارے ساتھ بانٹتے تھے۔ وہ بہت مشکل وقت تھا، لیکن ہمیں پتہ تھا کہ ہم جیتیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دیواروں پر گرافیٹی کی لڑائی بھی دکھائی دی

اب اس علاقے میں خاموشی اور اس کی بچی کھچی سڑکیں ہیں لیکن کبھی کبھی فائرنگ کی آوازیں بھی آتی ہیں۔

دولت اسلامیہ کو یہاں سے نکالنے کے لیے اس علاقے کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے، اور دولت اسلامیہ یہاں سے زیادہ دور بھی نہیں گئی۔ وہ یہاں سے پانچ میل سے بھی کم فاصلے پر موجود ہے اور اس کے جنگجوں کے ساتھ لڑائی اب بھی جاری ہے۔

میں مشرق کی طرف بڑھا۔ یہاں پر کرد جنگجوں نوجوان اور پرعزم ہیں۔ لیکن ان کو تینوں طرف سے دولت اسلامیہ نے گھیرا ہوا ہے۔

ایک کرد جنگجو کا کہنا ہے: ’اس علاقے کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑی فتح ہے۔ لیکن وہ اس سے بھی زیادہ خوشی کا دن ہوگا جس دن ہم کوبانی کے ارد گرد سارے علاقوں کو دولت اسلامیہ کے ہاتھوں سے آزاد کریں گے۔‘

اتحادی طیاروں کی آوازیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ ہم اندھیرے میں بیٹھے ہوئی تھے جب اچانک پاس سے چار اونچے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

کوبانی کی لڑائی یہاں کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہ سڑکیں بیان کرتی ہیں کہ دولت اسلامیہ کو ہرایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے عظیم قربانی دینی پڑے گی۔