جب مسخرہ مقدس بن جائے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فرانس چارلز ڈیکارٹ کا ملک ہے جس نے کہا تھا کہ ’میں سوچتا ہوں لہٰذا میں ہوں۔‘ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ پیرس کی ریلی میں ’میں سوچتا ہوں لہٰذا میں چارلی ہوں‘ جیسا پلے کارڈ اٹھایا گیا۔

چارلی ایبڈو پر حملے کی رپورٹنگ کے دوران بی بی سی کی سوشل میڈیا سائٹس پر دی جانے والی بیشتر آرا میں حملہ آوروں کے لیے ہمدردی اور رسالے کی جانب سے حملے کے ایک ہفتہ بعد صفحہ اول پر پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ سب کچھ دنیائے اسلام کی ایک شدید جذباتی کیفیت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ یعنی پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف انتہائی کرب اور غصے کا احساس۔

اس سلسلے کا پہلا کام ’پیرس حملوں کے بعد اسلامو فوبیا میں اضافہ‘ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

اس سلسلے کا دوسرا کالم ’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘

اس سلسلے کا تیسرا کالم ’تہذیبوں کا تصادم؟‘

ایک عرصہ سے یورپ کے اندر اور باہر بسنے والے مسلمان مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغرب مذہب کا احترام کرے اور خصوصا ان کے پیغمبر کی عکاسی سے پرہیز کرے۔

2005 میں ڈنمارک میں سلسلہ وار ایسے خاکے شائع کیے گئے جن میں سے کچھ میں پیغمبرِ اسلام کو بم باندھے دکھایا گیا۔ مسلمانوں کے شدید احتجاج اور اشتعال کی پروا نہ کرتے ہوئے فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین کے اخباروں نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا۔

ان حالات میں مسلمانوں کے اشتعال کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کیونکہ یہ غصہ آزادی یا فنکارانہ اظہار کے خلاف نہیں بلکہ اپنے نبی کی توہین کے خلاف ہے۔ لیکن کیا مسلمان اس نظریے کو سمجھتے ہیں جسے کئی مغربی ممالک انتہائی عزیز خیال کرتے ہیں اور جس میں بلا تفریق مذاق اڑانے کا حق بھی شامل ہے؟

بہت سے لوگ اس معاملے کو اس کے تناظر، تاریخ اور سماجی پس منظر میں رکھ کر دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرنا اس وقت انتہائی اہم ضرورت ہے۔ خصوصاً جب ان خاکوں کی اشاعت کرنے والے ممالک کے سامنے مسلمان نہیں بلکہ مغربی لوگ ہیں۔

پیرس میں ایک فرانسیسی لڑکی سے ملاقات ہوئی جس کا کہنا تھا کہ ’یہ کارٹون فرانسیسی قوم اور فرانسیسی لوگوں کے لیے ہیں۔ یہاں غصہ دلانے یا تحقیر کرنے کے حق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمارا طرزِ معاشرت ہے۔ سیکیولر لوگ تو شکایت نہیں کرتے جب وہ مسلم ممالک کے جرائد اور ٹی وی پر تکلیف دہ چیزیں دیکھتے ہیں۔‘

گویا سوال یہ ہوا کہ کیا مذہبی حساسیت کے احترام میں آزادیِ اظہار کو اپنا دائرہ محدود کرنا چاہیے یا خیالات کی وسعت کو جگہ دینے کے لیے مذہبی گروہوں کو اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے؟ یا پھر دونوں کو کچھ گنجائش پیدا کرنی چاہیے؟

اس گتھی کی ’سنہری کنجی‘ ڈھونڈے نہیں ملتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نظریے مختلف ہو سکتے ہیں، حساسیت مختلف ہو سکتی ہے، نزاکتِ احساس مختلف ہو سکتی ہے لیکن شناخت کے تحفظ کا جذبہ یکساں ہے

یہ وہی کنجی ہے جسے مسلم مہاجرین اپنی نقل مکانی کے پہلے دن سے مغربی یورپ میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپ کے لوگ بھی اب اسی کے متلاشی نظر آتے ہیں۔

آخر کیا وجہ تھی کہ چارلی ایبڈو پر حملے کے اگلے اتوار کو لوگوں کی ایک تاریخی تعداد نے ’میں ہوں چارلی‘ کے پلے کارڈ اٹھا کر پیرس کی سڑکوں پر مارچ کیا؟ پیرس میں مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ ’ہمارے لیے مسخرہ مقدس ہے۔‘

پیرس میں چارلی ایبڈو کے کئی صحافی مارے گئے، ایک کوشر مارکیٹ پر حملہ ہوا جس میں چار یہودی ہلاک ہوئے اور دو پولیس افسر ماے گئے لیکن پیرس کی ریلی محض ان حملوں کے خلاف نہیں تھی۔ یہ ریلی بنیادی طور پر اظہار اور رائے کی آزادی کے لیے تھی۔ یونٹی مارچ فرانس کی جدید تاریخ کا ایک بڑا واقعہ تھا جس کی اہمیت باہر شاید بہت کم سمجھی گئی۔

ایک فرد یا معاشرے کی زندگی میں ایسا لمحہ آ تاہے جب اس کی بنیادی شناخت آزمائش سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اگر یہ شناخت خطرے میں پڑتی ہے تو اس سے ہمارا خاصہ، ہماری بنیادی قدریں خطرے میں گھر جاتی ہیں۔ ایسا مرحلہ ہمارے ذاتی رشتوں میں بھی آ سکتا ہے اور معاشرتی سطح پر بھی، خصوصاً کثیرالثقافتی معاشروں میں جہاں شناختیں اکثر گڈ مڈ رہتی ہیں۔

مثلا کچھ مسلمان ایسے ہیں جو نماز روزے سے بھاگتے ہیں، شراب پی لیتے ہیں لیکن سؤر کا گوشت کھانے کے سوال پر انھوں نے ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے۔ بیشتر اوقات ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اگر انھوں نے یہ ’آخری گناہ‘ بھی کر لیا تو وہ خود کو مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں رہیں گے۔

سات جنوری کو فرانس بھی ایک ایسے ہی موڑ سے گزرا جب اسے محسوس ہوا کہ اس کی شناخت خطرے میں ہے۔ یہی کیفیت 11 جنوری کو تھی جب اس نے اپنی شناخت کے دفاع میں مارچ کیا اور جب حملوں کے ایک ہفتہ بعد ’سروائورز‘ نے پیغمبر کے خاکوں والا شمارہ شائع کیا جس کا مقصد یہ کہنا تھا کہ وہ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

سیکیولرزم فرانس کے قانون اور سیاست میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے موجود ہے جب ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے ایکٹ 1905 کے ذریعے باضابطہ طور پر فرانس کا چرچ کے ساتھ سرکاری تعلق ختم ہوا تھا۔ یہ ایکٹ فرانسیسی سیکولرزم کی مرکزی قانونی بنیاد بنا۔ آج فرانس میں مسلمانوں یا یہودیوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا اس لیے مشکل ہے کہ ریاست مذہب کو مردم شماری کے لیے درکار معلومات میں شامل نہیں کرتی اور اسے فرد کا ذاتی معاملہ سمجھتی ہے۔

یورپی بین المذاہب فورم برائے مذہبی آزادی کی سٹیئرنگ کمیٹی کے سربراہ ایرک رؤ کے مطابق فرانس نے طویل مذہبی جنگوں کا سامنا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’صرف اسلام نہیں بلکہ یہاں تمام مذاہب کے لیے نفرت پائی جاتی ہے۔ سنہ 1905 میں کیتھولک مذہب کے خلاف جنگ لڑی گئی اور اب اسلام سے سامنا ہے کیونکہ یہ یہاں کا ابھرتا ہوا مذہب ہے۔‘

فرانس کے پیچیدہ مگر مخصوص قوانین میں پادری مخالف بنیادوں کی جھلک ملتی ہے جہاں افراد کے لیے تو امان ہے لیکن مذہبی مقامات یا نظریات محفوظ نہیں۔ فرانس میں انقلاب کے فوری بعد پرانے قوانین کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں توہینِ مذہب جرم نہ ٹھہری۔ لیکن فرانس میں صحافت سے متعلق قوانین، امتیازی سلوک، منافرت یا کسی شخص یا گروہ کے خلاف اس کے آغاز یا علاقے، نسل یا مذہب سے تعلق کی بنا پر تشدد اکسانے کو جرم قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ آپ مذہبی شخصیات کے، جن میں پیغمبرِ بھی شامل ہیں، خاکے تو بنا سکتے ہیں لیکن آپ ان کے ماننے والوں کے خلاف نفرت نہیں بھڑکا سکتے۔

طنز کی یہ روایت جو یورپی تہذیب کی ابتدا سے ہی موجود ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انقلاب فرانس کے بعد یہ مزید مضبوط ہوئی، جس نے پہلی رپبلک کو جنم دیا۔ اس دور میں سیاسی اور سماجی طنز نے مقتدر طبقے، چاہے ’وہ بادشاہت ہو یا سیاسی و مذہبی اشرافیہ‘ کے خلاف منظم اور متحد ہونے والے عوام کو مضبوط کیا۔ طنز درحقیقت فرانسیسی ثقافت کے خمیر میں ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس کی ریلی بنیادی طور پر اظہار اور رائے کی آزادی کے لیے تھی۔ یونٹی مارچ فرانس کی جدید تاریخ کا ایک بڑا واقعہ تھا جس کی اہمیت باہر شاید بہت کم سمجھی گئی

چارلی ایبڈو اسلام کے علاوہ کیتھولک اور اورتھوڈاکس یہودیوں کو بھی نشانہ بناتا تھا اور کم از کم اس برس کے حملوں سے پہلے تک بیشتر فرانسیسی اسے بے مہار اور غیر شائستہ سمجھتے تھے۔لیکن یہ والٹیئر کا ملک ہے جس نے کہا تھا کہ ’تم جو کہتے ہو، میں اس سے اتفاق نہیں کرتا لیکن میں اپنی آخری سانس تک تمہارے اظہار کے حق کا دفاع کروں گا۔‘ دہشت گردوں کے ہاتھوں طنز نگاروں کے قتل پر اس حق کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے لوگ اگر جوق در جوق ریلی میں شریک ہوئے اور اس شمارے کے خریدار بنے تو وہ اس لیے تھا کہ وہ شناخت کی اس جنگ میں شامل ہو سکیں۔

یہ ڈیکارٹ کا ملک ہے جس نے کہا تھا کہ ’میں سوچتا ہوں لہٰذا میں ہوں۔‘ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ریلی میں ’میں سوچتا ہوں لہٰذا میں چارلی ہوں‘ جیسا پلے کارڈ اٹھایا گیا۔ یہ فرانس کی طرف سے اعلان تھا کہ اسے اس کے مرکزی وجود سے نکال باہر نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم اقدار نہ تو مطلق ہوتی ہیں اور نہ ہی تضادات اور منافقتوں سے پاک۔ کئی لوگوں کی نظر میں سیکیولر اقدار پر فرانس کا اصرار امتیازی ہے جو دوسرے مذاہب کی نسبت ایک مذہب پر مرکوز ہے۔ اسی طرح چارلی ہیبڈو کے خلاف مظاہرے کرنے والے اپنی مذہبی اقلیتوں کو وہ گنجائشیں دینے کی شاید مزاحمت کریں جو وہ چاہتے ہیں کہ فرانس اپنے مسلمانوں کو دے۔

نظریے مختلف ہو سکتے ہیں، حساسیت مختلف ہو سکتی ہے، نزاکتِ احساس مختلف ہو سکتی ہے لیکن شناخت کے تحفظ کا جذبہ یکساں ہے۔ کسی دوسرے سے اپنی شناخت کے احترام کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے لیکن اسے دوسروں پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ مسلم معاشرے سیکیولر ریاستوں سے یہ مطالبہ تو کرتے ہیں کہ وہ اپنے افق کو مذہبی حساسیت کے لیے کشادہ کریں لیکن کیا مسلم برادریاں خود سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ انھوں نے اپنے دائرہِ اسلام میں سیکیولر رجحانات کے لیے کتنی گنجائش پیدا کی ہے؟

اسی بارے میں