فرانس میں جہادیوں کے خلاف چھاپوں میں آٹھ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کی حکومت کا اندازہ ہے کہ کم سے کم 400 فرانسیسی باشندے شام اور عراق میں جہادیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے گئے ہیں

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارد کیزینیو کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسلامی شدت پسندوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے شبے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

برنارد کیزینیو نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں پیرس اور لیون میں کی گئی ہیں اور ان کا تعلق چارلی ایبڈو کے واقعے سے نہیں ہے۔

فرانس میں چارلی ایبڈو نامی جریدے کے دفتر اور یہودیوں کی ایک سپر مارکٹ پر حملے کے بعد تاحال سکیورٹی ادارے چوکنا ہیں۔

یورپ میں ہائی الرٹ، فرانس، بیلجیئم اور یونان میں گرفتاریاں

فرانسیسی قانون کے تحت مشکوک افراد کو 96 دنوں تک بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

برنارد کیزینیو نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے آٹھ مرد شام کے جہادیوں کے لیے نوجوان بھرتی کرنے میں عملی طور پر ملوث تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’دہشت گردی کے خلاف جنگ وقت کے خلاف دوڑ ہے اور ہم پوری طرح پر عزم ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس میں عوامی مقامات، سکولوں، یہودیوں کی عبادت گاہوں اور مساجد کی سکیورٹی کے لیے دس ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

فرانس کی حکومت کا اندازہ ہے کہ کم سے کم 400 فرانسیسی باشندے شام اور عراق میں جہادیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے گئے ہیں جبکہ کم سے کم ایسے 900 افراد ہیں جن کے فرانس ہی میں بھرتی کرنے والوں کے ساتھ روابط ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کم سے کم 161 قانونی معاملات جاری ہیں جن میں ایسے 547 افراد شامل ہیں جن پر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ روابط کا شبہ ہے۔

جمعرات کو کی جانے والے ان گرفتاریوں سے قبل گذشتہ ہفتے جنوبی فرانس میں بھی چھاپے مارے گئے تھے۔ ان چھاپوں میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی طریقۂ کار متعارف کروائے گئے ہیں۔

فرانس میں عوامی مقامات، سکولوں، یہودیوں کی عبادت گاہوں اور مساجد کی سکیورٹی کے لیے دس ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں