دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں پائلٹ کی ہلاکت کے بعد دو قیدیوں کو پھانسی

Image caption لیفٹیننٹ معاذ الکسابسہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے لیا تھا

اردن نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کے بعد ایک خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

سزائے موت پانے والوں میں ساجدہ الرشاوی شامل ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ساجدہ الرشاوی اور عراق میں القاعدہ کے رہنما زیاد کربولی کو بدھ کی صبح سزائے موت دے دی گئی۔

اس سے پہلے اردن نے اپنے مغوی پائلٹ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کو ایک ماہ پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سرکاری طور پر پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق سے پہلے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے آن لائن شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا کہ اردن کے مغوی پائلٹ کو ’زندہ جلا دیا گیا۔‘

اردن کے پائلٹ معاذ الکساسبہ کو دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے رکھا تھا اور ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری تھیں۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اردن کے سرکاری ٹی وی نے پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو سزا دینے اور بدلہ لینے کا عزم کیا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پائلٹ معاذ الکساسبہ تقریباً ایک ماہ پہلے اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔

پائلٹ کی ہلاکت کی خبر ملنے پر اردن کے بادشاہ عبداللہ امریکہ کا دورہ مختصر کر کے واپس وطن پہنچ گئے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کر چکے تھے۔

وطن واپس پہنچنے پر بادشاہ عبداللہ نے ایک بیان میں شہریوں سے مشکل کا سامنا کرنے میں متحد رہنے کی اپیل کی۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ویڈیو اصل ہے تو یہ دولتِ اسلامیہ کی بدی اور سفاکی کی ایک اور مثال ہے۔

یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ سے وابستہ ایک اکاؤنٹ پر جاری کی گئی۔

26 منٹ دورانیے کی اس ویڈیو کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم ویڈیو میں ایک لوہے کے پنجرے کو شعلوں میں لپٹا دیکھا جا سکتا ہے جس کے اندر نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لوگوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئی ہے جہاں ہلاک کیے جانے والے پائلٹ کے اہلخانہ نے کیمپ لگا رکھا تھا

لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں اس وقت دولتِ اسلامیہ نے حراست میں لے لیا تھا جب وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائی میں شامل تھے اور ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ تاہم وہ اس حادثے میں بچ گئے تھے۔

اردن نے اپنے مغوی پائلٹ کی رہائی کے لیے ایک عراقی حملہ آور خاتون ساجدہ الرشاوی کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی مگر اس پر اردن نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس کے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے اور اس کو قیدی خاتون کے بدلے میں رہا کیا جائے۔

ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد سینکڑوں افراد اردن کے دارالحکومت عمان کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں ہلاک کیے جانے والے پائلٹ کے اہلخانہ اور ان کے عزیزوں نے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption معاذ الکساسبہ اردن کے ایک طاقتور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت پر شدید دباؤ تھا

ابھی تک پائلٹ کے اہلخانہ نے ذرائع ابلاغ سے بات نہیں کی ہے تاہم پائلٹ کے ایک عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ اردن کو شدت پسندی کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔

اس سے پہلے یکم فروری کو اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سرکاری خبر رساں ادارے بترا کو بتایا کہ ’حکومت اپنے پائلٹ کی رہائی اور اُن کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔‘

معاذ الکساسبہ کے خاندان والوں نے گذشتہ دنوں حکومت پر زور دیا کہ وہ اُن کی رہائی کے تمام ممکنہ اقدامات کریں اور مزید معلومات فراہم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معاذ الکساسبہ کے خاندان کے افراد ان کی رہائی کے لیے اپیل کرتے ہوئے

دولتِ اسلامیہ نے اس کے بعد ساجدہ الرشاوی کی رہائی کا مطالبہ کیا جو 2005 میں اردن کے دارالحکومت عمان کے ایک ہوٹل میں بم دھماکہ کرنے کے جرم میں سزائے موت کی منتظر تھیں۔

دولتِ اسلامیہ نے اس کے بعد دوسرے جاپانی یرغمال مسٹر گوٹو کی رہائی کے لیے جمعرات کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ ان کے بدلے میں الرشاوی کو رہا کیا جائے۔

اسی بارے میں