’امریکہ کا یوکرینی فوج کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے پر غور‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سی این این کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کو ٹینک شکن، میزائل شکن اور مارٹر شکن دفاعی ہتھیار فراہم کر سکتا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حکومت روس نواز باغیوں کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے یوکرینی حکومت کو اسلحہ دینے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی حکام دفاع کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار بھیجنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم قومی سلامتی کے امور کی ترجمان برناڈیٹ میہن کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کے بارے میں اپنی پالیسیوں کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب یوکرین کے مشرقی علاقوں میں حکومتی افواج اور باغیوں کے مابین لڑائی میں تیزی آئی ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سوپل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ابتدا میں یوکرینی فوج کو مسلح کرنے کے حق میں نہیں تھے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ اور روس میں درپردہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اس وقت امریکہ یوکرین کو گیس ماسک اور ریڈار جیسی غیرمہلک فوجی امداد فراہم کر رہا ہے۔

تاہم پیر کو نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے بعد روس کو باغیوں کی مدد کرنے سے روکنے میں ناکامی کے بعد دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کا معاملہ دوبارہ سامنے آیا ہے۔

سی این این کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کو ٹینک شکن، میزائل شکن اور مارٹر شکن دفاعی ہتھیار فراہم کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس نواز باغی رہنما الیکساندر زخارچنکو نے ایک لاکھ افراد بھرتی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے

ایک امریکی افسر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مہلک دفاعی ہتھیاروں کے خیال کو ’نئی نظر‘ سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بات کہاں ختم ہوگی یہ ہم نہیں جانتے۔‘

ایک اور اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ فوری طور پر متوقع نہیں لیکن یوکرین میں تشدد میں اضافے نے امریکہ کو اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

برناڈیٹ میہن کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ہماری توجہ مسئلے کے سفارتی حل پر ہے لیکن ہم ہمیشہ ایسے دیگر مواقع کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں جو بحران کے حل کی بات چیت کے لیے جگہ بنا سکیں۔‘

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری بھی رواں ہفتے یوکرین کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقاتیں کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی اطلاعات سے ایک دن قبل یوکرین میں روس نواز باغی رہنما الیکساندر زخارچنکو نے ایک لاکھ افراد بھرتی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

یوکرین میں علیحدگی پسند اس وقت اہم شہر دیبالتسوا پر قبضے کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر دونیتسک کے مرکزی علاقوں پر توپ خانے کے حملے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں