’سربراہ کے استعفے کے باوجود تحقیقاتی رپورٹ شائع ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطین اور اسرائیل غزہ کی جنگ کے حوالے سے ایک دوسرے پر جنگی جرائم کے الزامات لگاتے رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں غزہ میں فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے میں مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مستعفی ہونے کے باوجود اس کمیٹی کی رپورٹ مقررہ وقت پر ہی شائع ہو گی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کی جانب سے کروائی جانے والی تحقیقات کی حتمی رپورٹ مارچ میں شائع ہونا ہے۔

اس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ولیم شاباس نے منگل کو اسرائیل کے بارے میں تعصب برتنے کے الزامات پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ وہ ماضی میں پی ایل او کے لیے کام کر چکے ہیں اور ان تحقیقات کو متنازع نہیں بنانا چاہتے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کے استعفے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے تحقیقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے اب اقوامِ متحدہ نے مسترد کر دیا ہے۔

بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ ’ولیم شاباس کے استعفے کے بعد وقت آگیا ہے کہ ان کی اسرائیل مخالف رپورٹ کو سرد خانے کی نذر کر دیا جائے۔‘

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ولیم شاباس کی جگہ اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کمیشن ہی کی ایک اور رکن میری میکگوون ڈیوس کو سونپ دی گئی ہے۔

Image caption 50 دن تک چلنے والی یہ جنگ جولائی 2014 میں شروع ہوئی تھی

میری ڈیوس امریکی سپریم کورٹ کی سابق جج ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے فلپ ڈیم کا کہنا ہے کہ ’ان کا کام کمیشن کے اب تک کے کام جائزہ لینا اور یقینی بنانا ہو گا کہ اس نے اپنا کام غیرجانبداری سے کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ فریقین ان سے تعاون کریں گے۔‘

خیال رہے کہ فلسطین اور اسرائیل غزہ کی جنگ کے حوالے سے ایک دوسرے پر جنگی جرائم کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس لڑائی میں 2100 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت فلسطین شہریوں کی تھی۔ لڑائی کی وجہ سے غزہ میں ہزاروں مکانات بھی تباہ ہوئے تھے۔

اس لڑائی میں اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

50 دن تک چلنے والی یہ جنگ جولائی 2014 میں شروع ہوئی تھی اور اگست میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ختم ہوئی تھی۔

اسی بارے میں