دونتسک ہسپتال پر گولہ گرنے سے تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین میں باغی مشرقی شہر دونتسک کے قصبے دیبالتسوا کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

یوکرین کے مشرقی شہر دونتسک کے ایک ہسپتال پر گولہ گرنے سے کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ہسپتال کے باہر ایک کمبل کے نیچے دیکھی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین میں حالیہ ہفتوں کے دوران حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یوکرین میں باغی مشرقی شہر دونتسک کے قصبے دیبالتسوا کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کی پالیسی چیف فیدریکا موگیرینی نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ عام شہری اس علاقے سے نکل سکیں۔

ان کا یہ بیان بین الااقوامی مبصرین کے ایک گروپ ’او ایس سی ای‘ کی جانب سے منگل کو تین دن کی جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دونتسک کے قصبے دیبالتسوا میں تقربیاً 7,000 افراد موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دونتسک کے قصبے دیبالتسوا میں تقربیاً 7,000 افراد موجود ہیں

دونتسک کے قصبے دیبالتسوا کی آبادی چند روز پہلے تک 25,000 افراد پر مشتمل تھی۔

خیال رہے کہ دیبالتسوا میں بڑی سٹرکوں اور ریل کا مرکز ہے۔

یوکرین کے علیحدگی پسندوں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دونتسک کے ہوائی اڈے پر پہلے ہی قبضہ کیا ہوا ہے۔

دونتسک میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اولگا ایوشینا کا کہنا ہے کہ دونتسک کے جنوب مشرقی علاقے میں قائم یہ ہسپتال بیرونی مریضوں کے لیے کلینک کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق ہسپتال پر ہونے والی شیلنگ کی آوازیں حملے کے دو گھنٹے بعد بھی سنی جا سکتی تھیں۔

یوکرین کے باغیوں کی جانب سے دونتسک اور لوہانسک پر قبضے کے بعد شہری علاقوں میں مارٹر گولے اور راکٹ گرنے کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں جبکہ علیحدگی پسند ان واقعات کا الزام یوکرین کی حکومت پر عائد کرتے ہیں۔

مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی کثیر آبادی ہے اور وہاں روس کے حامی صدر وکٹر یانوکووچ کی معذولی کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

یوکرین کی نئی حکومت روس پر مشرقی یوکرین میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگاتی ہے جبکہ روس اس کی تردید کرتا ہے۔

بین الااقوامی مبصرین کے ایک گروپ ’او ایس سی ای‘ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ 27 جنوری کو لوہانسک پر کیے جانے والے حملے میں کلسٹر کی گولیاں استعمال ہوئیں۔

دوسری جانب یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے سپاہیوں نے شہری آبادی پر گولہ باری نہیں کی ہے اور نہ ہی کلسٹر کی گولیاں استعمال کیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یوکرین میں اپریل سے لے کر اب تک لڑائی میں 5,000 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں