یوکرین: بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قیامِ امن کے لیے نئی تجویز میں یوکرین کی علاقائی سالمیت کو مدِنظر رکھا گیا ہے: فرانسوا اولاند

یوکرین کے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور اسی سلسلے میں جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر جمعے کو روسی صدر سے ملاقات کر رہے ہیں۔

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کی اس ملاقات میں مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے نئے امن منصوبے پر بات کریں گے۔

یہ نیا امن منصوبہ یوکرینی دارالحکومت کئیف میں ہونے والی بات چیت میں پیش کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کی تفصیلات تو سامنے نہیں آئی ہیں لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنما فریقین کی حالیہ پوزیشنوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جنگ بندی کی نئی لائن کی تجویز دے سکتے ہیں۔

کیئف میں ہونے والی بات چیت میں شریک امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے کا سفارتی حل چاہتا ہے لیکن وہ روسی جارحیت سے صرفِ نظر بھی نہیں کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس پر یوکرین میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس سے وہ انکار کرتا ہے۔

روس پر یوکرین میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس سے وہ انکار کرتا ہے۔

روس نے یوکرین اور مغربی ممالک کے نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں اس کی فوج باغیوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یوکرین میں اپریل 2014 سے اب تک تنازع کے دوران قریباً 5400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس تنازع کے دوران ستمبر 2014 میں بیلاروس کے شہر منسک میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔

صدر پیوتن سے ملاقات سے قبل جمعرات کو دونوں یورپی رہنماؤں نے نئے امن منصوبے پر یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو سے بات چیت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق یوکرین میں اپریل 2014 سے اب تک تنازع کے دوران قریباً 5400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس ملاقات کے بعد یوکرینی صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بات چیت سے ’جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی ہے۔‘

جمعے کو ہونے والی ملاقات سے قبل فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ قیامِ امن کے لیے جو نئی تجویز دے رہے ہیں اس میں یوکرین کی ’علاقائی سالمیت‘ کو مدِنظر رکھا گیا ہے اور یہ ایسا منصوبہ ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ سفارت کاری کا عمل ’غیرمعینہ مدت کےلیے جاری نہیں رہ سکتا۔‘

اسی بارے میں