بغداد: تین بم حملوں میں 30 سے زیادہ ہلاکتیں

عراق کے دارالحکومت بغداد میں پولیں کے مطابق تین مختلف مقامات پر ہونے والے بم حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوگئے۔

یہ دھماکے رات کے کرفیو کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہوئے جن میں پہلا دھماکہ ایک ریستوران میں ہوا۔

ریستوران میں ہونے والا دھماکہ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ہوا جس میں ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے 22 افراد ہلاک ہو کم از کم 50 افراد زخمی ہو گئے۔

اس کے بعد دو مختلف مارکیٹوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں مزید افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک بغداد کے مرکزی علاقے میں جبکہ دوسرا جنوب مغربی علاقے میں ہوا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان برگیڈئر جرنل سعد معان نے کہا کہ ان کے خیال میں ان حملوں کا کرفیو ہٹانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمعرات کو حکومت نے اعلان کیا تھا کہ کرفیو جمعرات کو درمیان شب ختم کر دیا جائے گا جو کہ 2003 میں صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کسی نہ کسی صورت میں جاری تھا۔

حالیہ کرفیو جو درمیان شب سے صبح 5 بجے تک نقل و حرکت پر پابندی لگاتا ہے گذشتہ سات سال سے چل رہا ہے۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے زندگی کے معمولات بحال کرنے کے لیے اس کرفیو کی پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بغداد کو دولتِ اسلامیہ کے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔

دوسری جانب روئٹرز کے مطابق سنیچر کو شمالی عراق میں زُمر کے علاقے میں ایک اجمتاعی قبر سے 16 یزیدیوں کی باقیات ملی ہیں جن پر گذشتہ سال دولتِ اسلامیہ نے دائرۂ حیات تنگ کر دیا تھا۔

یہ اس ہفتے ملنے والی دوسری اجتماعی قبر ہے۔

اسی بارے میں