نائجیریا میں صدارتی انتخابات ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حزب اختلاف انتخابات میں التوا کے حق میں نہیں ہے

نائجیریا کے الیکشن کمیشن نے 14 فروری کو ہونے والے صدارتی انتخابات سکیورٹی کے بارے میں خدشات کے باعث چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بات پر بحث مباحثہ جاری تھا کہ آیا ان حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہے بھی یا نہیں جب ملک کے شمال مشرق کے بیشتر علاقوں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے۔

انتخابات کی نئی تاریخ 28 مارچ منعقد کی گئی ہے۔

سنیچر تک نائجیریا کا الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کروانے کی تمام کوششوں کو رد کرتا چلا آیا تھا۔

اس سے قبل نائجیریا کے سلامتی کے مشیر نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ ووٹر کارڈوں کی تقسیم کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

سنیچر کے روز الیکشن کمیشن کے حکام کا اجلاس ہوا، جس کے دوران کمیشن کے سربراہ اتاہیرو جیگا نے کہا کہ جب انھیں بتایا گیا کہ فوج انتخابات کے دوران مدد نہیں کر پائے گی تو اس وقت چھ ہفتے کا التوا ناگزیر ہو گیا۔

سکیورٹی حکام نے انھیں بتایا تھا کہ فوج ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں بوکو حرام کے جہادیوں سے لڑنے میں مصروف ہے، اس لیے وہ انتخابات میں ہاتھ نہیں بٹا سکے گی۔

نائجیریا کے دارالحکومت لاگوس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ول راس کہتے ہیں کہ انتخابات کا التوا بےحد متنازع فیصلہ ہے۔

حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت کے ارکان فوج پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ زبردستی التوا چاہتی ہے تاکہ صدر گڈلک جوناتھن کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔

ہمارے نامہ نگار نے کہا ہے کہ توقعات کے مطابق موجودہ صدر اور سابق فوجی حکمران محمدو بہاری کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس التوا سے ملک میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

اسی بارے میں