یوکرین: بحران کے حل کا ’آخری موقع‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند، روسی صدر ولادی میر پوتن اور جرمن چانسلر کے درمیان جمعے کو ماسکو میں مذاکرات ہوئے

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ فرانس اور جرمنی جو معاہدہ پیش کیا ہے وہ یوکرین میں قیامِ امن کا ’آخری موقع ہو سکتا ہے۔‘

جرمنی کی چانسلر انگلیلا میرکل نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ منصوبہ کامیاب ہو گا، تاہم ’یہ اس قابل ضرور ہے کہ اسے آزمایا جائے۔‘

صدر اولاند نے کہا کہ اس منصوبے میں موجودہ محاذِ جنگ کے گرد 50 تا 70 کلومیٹر چوڑا غیرفوجی علاقہ شامل ہو گا۔

یوکرین بحران کے حل کے لیے امن منصوبے پر اتفاق

یوکرین بحران کے دوران نیٹو کی تشکیلِ نو

دونوں رہنماؤں کی کوشش ہے کہ یوکرین میں حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان جنگ رک جائے۔

روس پر الزام ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ روس اس سے انکار کرتا ہے۔

توقع ہے کہ اتوار کو صدر اولاند اور چانسلر میرکل روسی صدر ولادی میر پوتن اور یوکرینی رہنما پیترو پوروشنکو سے ٹیلی فون پر اس منصوبے پر بات چیت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب تک یوکرین کے تنازعے میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہزاروں دوسرے بےگھر ہو گئے ہیں

منصوبے کی بہت کم تفصیلات سامنے آ سکی ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ ستمبر میں بیلاروس کے شہر منسک میں ہونے والے جنگ بندی کی معاہدے کی تجدید کی کوشش ہے۔ اس کے بعد سے باغیوں نے مزید علاقے پر قبضہ کیا ہے جس سے یوکرین اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اپریل کے بعد سے اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس دوران باغیوں نے لوہانسک اور دونیتسک کے بڑے علاقے ہتھیا لیے ہیں۔

صدر اولاند اور چانسلر میرکل نے اس ہفتے کیئف اور ماسکو کا خصوصی دورہ کیا تھا جس میں امن معاہدے پر بات چیت ہوئی۔

اسی دوران جرمنی کے شہر میونخ میں ایک بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں سفارتی مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ وہ ’خلوصِ دل‘ سے امید کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ سودمند ثابت ہو۔

چانسلر میرکل نے کانفرنس کو بتایا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ سفارت کاری کامیاب ہو جائے گی، لیکن اس سلسلے میں کوشش کرنا لازمی تھا۔ انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ متاثرینِ یوکرین کا ہم پر اتنا حق بنتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرینی صدر پیترو پوروشنکو میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے دوران روسی فوجیوں کے پاسپورٹ دکھا رہے ہیں

صدر اولاند نے فرینچ ٹی وی کو بتایا کہ مشرقی یوکرین کے علاقوں کو وسیع خودمختاری دینا پڑے گی: ’یہ لوگ حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس کے بعد یہ مل جل کر نہیں رہ پائیں گے۔‘

امریکہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے بارے میں غور و خوض کر رہا ہے، تاہم انگیلا میرکل نے کہا کہ وہ کسی ایسی صورتِ حال کا تصور نہیں کر سکتیں جس میں ’یوکرینی فوج کو دیے جانے والے بہتر اسلحے سے صدر پوتن اتنے متاثر ہو جائیں کہ سوچنے لگیں کہ انھیں فوجی شکست ہو جائے گی۔‘

جرمن چانسلر کا یہ بیان نیٹو کے فوجی سربراہ اور امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ بریڈلو کے اس موقف سے متصادم ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مغربی اتحادیوں کو ’فوجی حل کے امکان کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں