اطالوی پولیس اہلکار پر ’کاؤچ سرفنگ‘ ریپ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ڈینو میگلیو کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے

ایک اطالوی پولیس اہلکار پر ایک لڑکی سے’ کاؤچ سرفنگ‘ ویب سائٹ پر رابطہ کر کے اسے اپنے گھر بلانے اور اس کا ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ 35 سالہ ڈینو میگلیو پر 16 سالہ آسٹریلوی نوجوان لڑکی کو نشہ آور اشیا دینے اور اس کا ریپ کرنے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

استغاثہ کے مطابق پولیس افسر نے لڑکی کو نشہ آور دوا دینے اور اس کے ساتھ ہم بستری کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس واقعے کے بعد درجن سے زائد دیگر خواتین کی طرف سے اسی طرح کے حملوں کا شکار ہونے کے دعووں کی اب تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اطلاعت کے مطابق ڈینو میگلیو نے گزشتہ سال شمالی اٹلی کے علاقے ’پادوا‘ میں اپنے گھر میں 16 سالہ لڑکی پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اٹلی کے سفر پر تھی۔

خبر رساں ادارے فرانس پریس نیوز ایجنسی کے مطابق ملزم کو ایک فوجی جیل میں رکھا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمے کی سماعت مارچ میں شروع ہوگی۔

پولیس دیگر 14 خواتین جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں کے ساتھ پیش آنے والے اسی طرح کے واقعات کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ کاؤچ سرفنگ ایک سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ ہے جس پر سیاح ان مقامی لوگوں کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں جو ان کو مفت رہائش فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔

کوچ سرفنگ کی چیف ایگزیکٹو ’جینیفر بللوک‘ کا کہنا ہے کہ صارفین کی حفاظت ان کی اعلیٰ ترین ترجیح ہے اور اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مبینہ حملوں کے واقعات متاثرہ خواتین کی جانب سے ویب سائٹ سے رابطہ کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

مقامی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ڈینو میگلیو کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں