ایچ ایس بی سی بینک نے ’ٹیکس چوری‘ میں مدد کی

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption سنہ 2007 سات میں ایچ ایس بی سی سے چوری کیے جانے والے دستاویزات میں ایک لاکھ سے بھی زائد اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام ہیں

بی بی سی کو حاصل شدہ معلومات کے مطابق دنیا کے معروف بینک ایچ ایس بی سی کے سوئٹزرلینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک نے دنیا کے کئی اہم سیاستدانوں، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیتوں اور مجرموں کو ان کے ممالک کی حکومتوں سے ٹیکس بچانے یا پھر ’ٹیکس کی چوری کرنے میں‘ مدد کی تھی۔

بی بی سی اور بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں کو سنہ 2007 میں لیک کیے جانے والے دستاویزات کے مطابق بینک نے اپنے بہت سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ’ٹیکس کی چوری‘ میں مدد کی ہے۔

ایچ ایس بی سی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے بینک کی خفیہ سروسز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر اعلانیہ اکاؤنٹ کھولے تھے۔

تاہم بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اب اپنی شرائط میں تبدیلیاں کی ہیں اور سنہ 2007 کے بعد سے اس نے سوئٹزرلینڈ کے اس قسم کے اکاؤنٹ میں 70 فی صد کی کمی کی ہے۔

واضح رہے کہ ان بین الاقوامی میڈیا اداروں میں بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس بھی شامل ہے جس نے کئی ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام شائع کیے ہیں۔ ان میں سیاست دانوں کے علاوہ بڑے صنعت کاروں کے ساتھ این آر آئي اور ہیرے کے بعض بڑے تاجروں کے نام بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس میں تقریبا سات ہزار برطانوی شہریوں کے بھی نام ہیں اور ان میں سے بہت سے اکاؤنٹ ٹیکس کے شعبے میں ظاہر نہیں کیے گئے ہیں

ایچ ایس بی سی کے سوئٹزر لینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک پر الزام ہے کہ اس نے اپنے صارفین کو ٹیکس چوری کا مشورہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ کس طرح قانون سے ایک قدم آگے رہیں۔

واضح رہے کہ ایچ ایس بی سی میں کام کرنے والے ایک کمپیوٹر کے ماہر نے سنہ 2007 میں جو معولومات چرائی تھیں ان میں دنیا بھر کے ایک لاکھ سے زائد اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق اس میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 1195 اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام شامل ہیں۔ بھارت میں ان معلومات کے ظاہر ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر کالے دھن پر بحث و مباحثہ رہا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ان معلومات کے ظاہر ہونے کے بعد ٹیکس کی چوری کو روکنے کے لیے کئی ممالک میں نئے قانون بن سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں کالے دھن پر گذشتہ کئی سالوں سے بحث و مباحثہ جاری ہے

غیر ملکی اکاؤنٹ غیر قانونی نہیں ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کا استعمال حکام سے اپنے پیسے کو چھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ ٹیکس بچانا قانونی ہے جبکہ دانستہ طور پر ٹیکس نہ ادا کرنا غیر قانونی ہے۔

فرانسسی حکام نے ایچ ایس بی سی کے چوری کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر سنہ 2013 میں کہا تھا کہ اس فہرست میں شامل ان کے تقریبا 8۔99 فی صد شہری شاید ٹیکس بچانے کی کوشش میں تھے۔

اس میں تقریبا سات ہزار برطانوی شہریوں کے بھی نام ہیں اور ان میں سے بہت سے اکاؤنٹ ٹیکس کے شعبے میں ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں