پرسکون، شائستہ اور ثابت قدم بشار الاسد

Image caption صدر بشار الاسد نے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر جیریمی بوئن کو خصوصی انٹرویو دیا

باوجود اس کے کہ ان کا ملک پچھلے چار سال سے شدید تباہی کا شکار ہے، شامی صدر بشار الاسد خاصے پرسکون نظر آ رہے تھے۔

وہ بہت شائستگی سے بات کر رہے تھے اور انٹرویو کے دوران بار بار مسکراتے رہے۔

مگر جب اپنی کارکردگی کے دفاع کا موقع آیا یا شامی فوج کی کارگزاری کی بات ہوئی تو وہ بہت ثابت قدم تھے۔

انھوں نے اس آدھے گھنٹے کے انٹرویو کے دوران ایک بار سے زیادہ کئی طریقوں سے اس بات کو دہرایا کہ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ ایک محبِ وطن کی حیثیت سے اپنے ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ جنگ میں ہلاکتیں ہوتی ہیں، مگر دشامی فوج اور محب وطن افراد کبھی بھی اپنے لوگوں کو سوچی سمجھی پالیسی کے تحت نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

شام اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ دنیا بھر میں اُن کے کئی دشمن جنگ کے بارے میں اُن کے خیالات کو رد کریں گے۔ اُن کے مطابق وہ ہلاکتوں کی ایک ایسی مشین کے انچارج رہے ہیں جو شامی شہریوں کو چبا چبا کر اگلتی رہی ہے۔

جیسے جیسے شام کی جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہی ہے، بیرل بم حکومتی افواج کے ہتھیاروں میں سب سے بدنام ہتھیار بن گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باغیوں کے قبضے میں دمشق کا مضافاتی علاقہ دومہ شامی افواج کی جانب سے شدید بمباری کا نشانہ بنا

دو تین سال قبل میں نے دمشق کے مضافاتی علاقے دومہ میں اس کے تباہ کن اثرات دیکھے۔ یہ قصبہ اس جنگ کے آغاز سے ہی باغیوں کے قبضے میں رہا ہے۔

مقامی افراد نے ایک ہیلی کاپٹر سے ایک بڑی چیز کو گرتے ہوئے دیکھی جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے نے آس پاس کے فلیٹوں کے بلاک کے بلاک تباہ کر دیے۔

ایک بیرل بم ایک خودکار ہتھیار ہے جس میں ایک پلاسٹک کے کنٹینر میں سخت چیزیں اور دھماکہ خیز مواد ڈال دیے جاتے ہیں۔

صدر بشار الاسد نے اصرار کیا کہ شامی افواج انھیں کبھی بھی کسی ایسی جگہ استعمال نہیں کرے گی جہاں لوگ رہتے ہیں: ’میں فوج کو جانتا ہوں۔ وہ گولیاں استعمال کرتے ہیں، میزائل اور بم استعمال کرتے ہیں۔ میں نے کسی فوجی کو بیرل اور شاید برتن استعمال کرتے نہیں سنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر بشار الاسد نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اُن کی افواج نے بیرل بموں کا استعمال کیا

یہ ایک انتہائی غیر سنجیدہ جواب تھا۔ برتنوں کے استعمال کا ذکر یا تو سنگ دلی تھی یا مزاح پیدا کرنے کی بھونڈی کوشش، جو اس بات کی علامت تھی کہ صدر بشار الاسد اپنے عوام سے کس قدر لاتعلق ہو گئے ہیں۔

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ شام میں فیصلے کون کرتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں طاقتور شخصیات ہیں، مثلاً صدر بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد، جن کے بارے میں میں ہمیشہ سمجھتا رہا ہوں کہ بشار الاسد کو ورثے میں ملنے والی صدارت ایک خاندانی کاروبار کی طرح ہے جس کے بورڈ کے چیئرمین بشار الاسد ہیں۔

اُن کا کام کسی اور کی نسبت یہ ہے کہ خاندان کا کمپنی پر کنٹرول قائم رہے۔

انٹرویو کے دوران ہم نے صرف بیرل بموں کے بارے میں ہی بات نہیں کی بلکہ میں ان کے سامنے کچھ تلخ باتیں بھی رکھیں جو عوام کے ذہنوں میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر بشار الاسد نے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں کا محاصرہ کرنے کا بھی دفاع کیا

یہ حقیقت کہ صدر بشارالاسد نے مغربی میڈیا کو انٹرویوز دینا شروع کیے ہیں، لازمی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اب زیادہ محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

جو باتیں انھوں نے مجھے بتائیں، اُن کے کئی دشمن اُن میں سے بہت سی باتوں کو رد کرتے ہیں۔ مگر گذشتہ چند سالوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ آپ بشار الاسد کو غیر اہم نہیں قرار دے سکتے کیونکہ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے اُن کے اقتدار کے خاتمے کی پیش گوئیاں بار بار کی جا چکی ہیں مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ کی طرح محفوظ لگتے ہیں۔

اسی بارے میں