نومولود بچیوں کو بدلنے پر 20 سال بعد معاوضہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یہ غلطی 10 سال قبل پتہ چل گئی تھی لیکن دونوں خاندانوں نے لڑکیوں کو واپس بدلنے سے انکار کر دیا تھا

دو فرانسیسی لڑکیوں کو، جنھیں بیس سال پہلے پیدا ہونے کے بعد غلط والدین کو دے دیا گیا تھا، ایک مقدمے کے بعد تقریباً بیس لاکھ ڈالر معاوضہ دیا گیا ہے۔

غلطی کرنے والے کلنک کو دونوں لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

دونوں نومولود بچیوں کو پیدائش کے بعد ایک ہی انکیوبیٹر میں رکھا گیا تھا اور پھر غلط والدین کو دے دیا گیا تھا۔

اگرچہ اس غلطی کا علم 10 سال قبل ہو گیا تھا لیکن دونوں خاندانوں نے لڑکیوں کو بدلنے سے انکار کر دیا تھا۔

منگل کو جنوبی فرانس کی ایک عدالت نے کلنک کو حکم دیا کہ وہ ہر لڑکی کو چار لاکھ یورو معاوضہ دے۔

لڑکیوں کے اہل خانہ کو تین لاکھ یورو ادا کیے گئے اور بہن بھائیوں کو ساٹھ ہزار یورو دیے گئے۔

یہ رقم اہل خانہ کی مانگی ہوئی رقم سے چھ گنا کم تھی لیکن ان کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپیل نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ’مُطمئن ہیں کہ عدالت نے کلنک کی غلطی کو تسلیم کیا۔‘

ایک والدہ سوفی سیرانو نے غلطی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے لیکن دوسرے خاندان نے خاموشی اختیار کی ہے۔

عدالت کے فیصلے سے پہلے سوفی نے بتایا کہ ان کے ہاں سنہ 1994 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی جسے یرقان ہونے کی وجہ سے انکیوبیٹر میں رکھنا پڑا۔

ایک اور نومولود بچی پہلے سے انکیوبیٹر میں تھی اور ایک اسسٹنٹ نرس نے بنا سوچے سمجھے بچیوں کو بدل دیا۔

اگرچہ دونوں ماؤں نے بچیوں کے مختلف جلد کے رنگ اور بالوں کی لمبائی دیکھ کر شک کا اظہار کیا لیکن انھیں پھر بھی ان کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا تھا۔

دس سال بعد بھی شک نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور سوفی اور ان کے شوہر نے طبی ٹیسٹ کروائے جن کے بعد پتہ چلا کہ دونوں اپنی بیٹی کے حیاتیاتی والدین نہیں تھے۔

تحقیقات کروانے کے بعد دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کیا اور آخر کار یہ کیس عدالت تک گیا۔ لیکن بچیوں کو بدلنے کی بات کبھی نہیں کی گئی تھی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں خاندان ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔

سوفی نے کہا کہ ’ہمارے لیے بہت مشکل وقت تھا اور ہمیں بات کر کے بہت تکلیف ہوتی تھی اس لیے ہم نے بات کرنا چھوڑ دی۔ صرف یہی ایک طریقہ تھا ایک پرسکون زندگی جینے کا۔‘

ان کی بیٹی مانون سیرانو نے دوسرے خاندان کو ملنا ایک ’بہت پریشان‘ لمحہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ اپنے آپ کو ایک ایسی خاتون کے سامنے کھڑا پاتے ہیں جو آپ کی حیاتیاتی ماں ہے لیکن آپ کے لیے ایک اجنبی ہیں۔‘

اسی بارے میں