مذاکرات سے قبل مشرقی یوکرین میں لڑائی شدید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس اپریل سے جاری کشیدگی میں اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں

یوکرین کے لیے بدھ کو متوقع امن مذاکرت سے ایک دن قبل مشرقی یوکرین میں حکومتی فورسز اور روس نواز باغیوں میں جاری لڑائی میں شدت آئی ہے۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں نے کراماتورسک نامی شہر میں ایک فوجی اڈے پر راکٹ حملہ کیا ہے کہ جس متں کم سے کم سات عام شہری مارے گئے ہیں۔

اسی اثنا میں یوکرین میں رضاکاروں کے دستے ’ایزوف‘ بٹالین نے علیحدگی پسندوں کے خلاف ماریوپول میں کارروائی کی ہے۔

گذشتہ برس اپریل سے جاری کشیدگی میں اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں۔

یوکرین اور مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روس باغیوں کی مدد کے لیے اسلحہ اور فوجی بھیج رہا ہے۔

یوکرین ، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے درمیان بدھ کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ملاقات میں متوقع ہے جس میں وہ امن معاہدے پر بات کریں گے۔

اس اجلاس میں کوشش کی جائے گی کے بھاری ہتھیاروں کو ہٹا کر غیر فوجی علاقے کا قیام عمل میں لایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ انھوں نے نہیں داغے

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے حصول کے لیے ایک مضبوط ارادے کے ساتھ منسک جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے یوکرین کے صدر پیٹر پورو شینکو سے بات کی ہے۔

امریکی صدر واضح کر چکے ہیں کہ اگر یوکرین کے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں کہ تو امریکہ یوکرین کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی پر غور کرے گا۔ تاہم روس نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔

یوکرین کے حکام کے مطابق دونیتسک کے علاقے کرماستورسک میں فوجی اڈے پر باغیوں کے حملے میں رہائشی علاقہ بھی زد میں آیا جس سے کم سے کم سات عام شہری ہلاک اور 16 زخمی ہوئے جبکہ فوجی اڈے کے اندر دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقہ ہورلیفکا سے داغے گئے ہیں جو شہر سے 50 کلو میٹر دور ہے۔ تاہم باغیوں نے کسی بھی راکٹ حملے کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں