عدلیہ کی مذمت کرنے والے کارٹونسٹ پر بغاوت کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’بغاوت کے قانون کو مخالفت کی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘

ملائیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک کارٹونسٹ کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ذوالکفلی انور حق نامی اس کارٹونسٹ نے حزب اختلاف کے رہنما انور ابراہیم کی سزا برقرار رکھنے کے عدالتی فیصلے کی مذمت کی تھی۔

انور ابراہیم کو سنہ 2008 میں ایک مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے پانچ سال کی سزا دی گئی تھی جس کے خلاف انھوں نے اپیل کی تھی لیکن عدالت نے فیصلے کو برقرار رکھا۔

انور کی پانچ سال کی سزا منگل سے شروع ہوئی ہے۔

کارٹونسٹ ذوالکفلی انور حق نے عدالت کے فیصلے کے بعد سماجی رابطے ٹوئٹر پر کئی ٹویٹ کیے تھے جن میں انھوں نے وزیر اعظم نجیب رزاق پر عدلیہ کو متاثر کرنے کا الزام لگایا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’بغاوت کے قانون کو مخالفت کی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

52 سالہ ذوالکفلیی کو’ذونار‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انھیں منگل کو دیر رات ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے کارٹون میں مسٹر نجیب کو انور کے مقدمے میں جج کے روپ میں دکھایا تھا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا تھا: ’کالے لباس میں ملبوس لوگ فیصلہ سنانے میں فخر کا اظہار کر رہے تھے۔ سیاسی مالکوں کی جانب سے ملنے والا انعام ضرور بہت زیادہ ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption منگل کو انورابراہیم کے حامی عدالت کے باہر پولیس کے مخالف کھڑے تھے

پولیس چیف خالد ابوبکر نے منگل کو ٹوئٹر پر کہا کہ حکام بغاوت کے قانون کے تحت انور کے متعلق فیصلے پر نکتہ چینی کرنے پر حزب اختلاف کے دو رہنماؤں کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ذوالکفلی کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نجیب کی حکومت پرامن تنقید کو ایسے مجرمانہ اقدامات میں تبدیل کر رہی ہے جس سے حکومت کے لیے خطرہ ہو۔‘

انور ابراہیم پر اپنے ایک ملازم سیف البخاری ازلان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام ہے۔ وہ ان کے ساتھ حزب اختلاف کی مہم کے دفتر میں کام کرتے تھے۔

ہم جنس پرستی، خواہ رضامندی سے کی گئی ہو، وہ ملائیشیا میں قابل سزا جرم ہے اور اس کے لیے 20 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ تاہم اس معاملے میں بہت کم مقدمے چلائے گئے ہیں۔

انور ابراہیم کو اس معاملے میں ہائی کورٹ نے سنہ 2012 میں بری کردیا تھا لیکن ایک اپیل کورٹ نے گذشتہ سال مارچ میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

وفاقی عدالت میں ان کی آخری اپیل منگل کو خارج کردی گئی۔ ملائیشیا میں اور بیرونی دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو سیاست سے متاثر قرار دیا ہے تاکہ برسراقتدار اتحاد کو ان سے خطرہ نہ رہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس نے اس فیصلے کو ’شرمناک‘ اور انصاف کے لیے ’سیاہ دن‘ سے تعبیر کیا ہے۔

اسی بارے میں