بحیرۂ روم: کشتیوں کے حادثے میں ’300 تارکینِ وطن ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زندہ بچ جانے والے تمام نو افراد فرانسیسی زبان بولتے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں کشتیوں کے ایک حادثے میں اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حادثے میں 300 تک تارکینِ وطن ڈوب گئے ہیں۔

اس سے قبل سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر اٹلی میں ادارے کی ترجمان کارلوٹا سیمی نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’203 افراد کو لہروں نے نگل لیا ہے جبکہ نو کو بچا لیا گیا ہے۔‘

انھوں نے صورت حال کو خوفناک اور بہت بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کے روز بھی اسی طرح کے ایک حادثے میں 29 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔

تارکینِ وطن کی بین الاقوامی تنظیم آئی او ایم کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین سانحے میں ملوث دونوں کشتیاں سنیچر کو لیبیا سے چلی تھیں اور ان کی منزل یورپ تھی۔

نو زندہ بچ جانے والے تمام افراد فرانسیسی زبان بولتے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے۔

اٹلی نے کچھ عرصہ قبل بحیرۂ روم میں ’مئیر ناسٹروم‘ نامی سرچ اور ریسکیو آپریشن ختم کر دیا تھا اور یورپی ممالک نے ایک مشترکہ سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مئیر ناسٹروم کو بند کرنے کے فیصلے کے بعد سے ناقدین مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ بحیرۂ روم میں حادثوں کی صورت میں زیادہ جانی نقصان ہوگا۔

اٹلی میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے کہ ’اگر مئیر ناسٹروم بند نہ ہوتا تو کیا اس حالیہ حادثے میں مرنے والوں کو بچا لیا جاتا؟ میں نے اطالوی بحریہ کے ساتھ ایک ہفتہ سمندر میں گزارا ہے اور میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے لوگوں کو بچانے کی ہرممکن کوشش کی ہو گی۔‘

دوسری جانب اس حادثے سے ایک دن قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان کارلوٹا سیمی نے یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ ’علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن برقرار نہ رکھنا انسانی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرۂ روم کو پار کرتے ہوئے 3500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں