سڈنی: دو افراد پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا الزام عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس نے اس حملے کے منصوبے کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں دیں

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے منگل کو حراست میں لیے جانے والے دو افراد پر دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے۔

24 اور 26 سالہ اشخاص کو سڈنی کے نواحی علاقے فیئرفیلڈ سے پکڑا گیا تھا اور انھیں بدھ کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس چھاپے کے دوران ان افراد سے ایک شکاری چاقو، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پرچم اور حملے کی تفصیلات والی ایک ویڈیو برآمد ہوئی تھی۔

آسٹریلیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں عالمی اتحاد کا حصہ ہے۔

سڈنی میں گذشتہ برس دسمبر میں ایک کیفے میں لوگوں کو مغوی بنائے جانے کا واقعہ پیش آ چکا ہے جس میں دو مغوی اور ایک مسلح شخص ہلاک ہوا تھا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کی ڈپٹی کمشنر کیتھرین برن کا کہنا ہے کہ جس دن ان دونوں افراد کو گرفتار کیا گیا وہ اسی دن ایک حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ دونوں افراد کسی کو جانی نقصان پہنچا سکتے تھے اور شاید کسی کو قتل بھی کر سکتے تھے۔‘

کیتھرین برن نے بتایا کہ ان کے قبضے سے برآمد ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کو حملے کے بارے میں بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے اس حملے کے منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں لیکن پولیس افسر کے مطابق یہ پیغام ’دولتِ اسلامیہ کی جانب سے آنے والے پیغامات سے مطابقت رکھتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سڈنی گذشتہ برس کے دوران آسٹریلوی پولیس کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے

پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کے نام عمر الکتوبی اور محمد قائد بتائے ہیں اور کہا ہے کہ پولیس ان کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں جانتی تھی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کے افسران ان کے ناموں سے منگل کو ہی پہلی بار واقف ہوئے۔

ان پر دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی اور تیاری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سڈنی گذشتہ برس کے دوران آسٹریلوی پولیس کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے اور ستمبر میں یہاں آسٹریلوی پولیس کی تاریخ کی انسدادِ دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی میں 12 مشتبہ شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

حراست میں لیے گئے بیشتر افراد پر دولتِ اسلامیہ سے تعلق ہونے یا اس کی حمایت کرنے کا شبہ تھا۔

آسٹریلوی حکام کے خیال میں اس وقت 60 آسٹریلوی باشندے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں جبکہ 100 کے قریب آسٹریلیا میں رہ کر ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں