پرواز رکوانے والی کوریائی عہدیدار کو ایک سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیون چو نے کئی بار اپنے طرزِ عمل کی معافی مانگی تھی

جنوبی کوریا میں عدالت نے ایک فضائی کمپنی کی ایک سابق عہدیدار کو ایوی ایشن سیفٹی کے قانون کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

40 سالہ ہیدر چو نے پرواز سے قبل مناسب طریقے سے مونگ پھلیاں پیش نہ کیے جانے پر نیویارک سے سیؤل کی پرواز ملتوی کروا دی تھی۔

جج او سن وو نے کہا ہے کہ اس مقدمے میں ’انسانی وقار کو پامال کیا گیا ہے۔‘ جج نے مزید کہا کہ ہیدر نے ایسا برتاؤ کیا جیسے جہاز ان کی ذاتی ملکیت ہو۔

عدالت نے کہا کہ ان پر زبردستی پرواز کا راستہ تبدیل کروانے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔

ہیدر کوریئن ایئر کے صدر کی بیٹی ہیں اور اس واقعے کے وقت وہ کمپنی کی نائب صدر بھی تھیں۔

انھوں نے پیالے کی جگہ تھیلی میں مونگ پھلیاں پیش کیے جانے پر پرواز واپس ٹرمینل پر لے جانے کا حکم دیا تھا۔

ہیون اس واقعے پر پہلے ہی معافی مانگ چکی ہیں اور اپنے عہدے سے مستعفی بھی ہو گئی ہیں۔ ان پر ایوی ایشن سیفٹی کے قانون کی خلاف ورزی اور جہاز کے عملے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ہیون پر یہ الزام بھی تھا کہ انھوں نے واقعے کے بارے میں جھوٹ بولنے کے لیے عملے پر دباؤ ڈالا اور عملے کو زدوکوب بھی کیا۔

انھوں نے طیارے کے چیف سٹیورڈ پارک چینگ جن کو مارنے پیٹنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔

پارک چینگ کا الزام ہے کہ ہیون نے انھیں جھک کر معافی مانگنے کو کہا اور پھر انھیں ایک فائل دے ماری۔

اسی بارے میں