تیل کی گرتی قیمتیں: پس پردہ عوامل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہیوسٹن یونیورسٹی کے ماہرین کے بقول عالمی قیمتوں میں کمی اور پیداواری اخراجات میں زیادتی سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ان میں روس، ایران اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ شامل ہیں جو تیل کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں

گذشتہ چھ ماہ میں تیل کی عالمی قیمتوں میں فی بیرل 60 ڈالر کی کمی آئی ہے جس کے باعث یہ 110 ڈالر فی بیرل سے گر کر 50 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے جا پہنچی ہے۔ تجزیہ نگار اس کمی کے اسباب پر غور کر رہے ہیں۔

ترکی میں سرمایہ کاری کے ایک بڑے ماہر عارف انور کے مطابق ایک ممکنہ مقصد روس کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ تعمیر نو اور ترقی کے یورپی بینک کی پیشن گوئی کے مطابق 2015 میں روسی معاشی پیداوار میں 4.8 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ نیز تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور یوکرین سے کشیدگی کی وجہ سے روس میں علاقائی اقتصادی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

امریکہ یہ موقع اس امر کے اظہار کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے کہ وہ توانائی کے بازار میں ایک ایسی قوت ہے جس سے روس بھرپور مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ امریکہ کے پاس دوسرا اختیار مائع گیس کی فروخت کا بھی ہے تاہم اس کے لیے درکار انفرا اسٹرکچر ابھی قائم نہیں ہوا اور مجوزہ منصوبوں کو عملی صورت اختیار کرنے میں کئی سال درکار ہیں۔

فرانسیسی ماہر معاشیات دومینک موئیسی کی رائے میں اس وقت روس کو عالمی افق پر سیاسی و سفارتی تنہائی کے خطرے کا سامنا ہے۔

مارچ 2014 میں روس کی جانب سے یوکرین کی بندرگاہ کرائمیا کا قبضہ اپنے ہاتھ میں لیے جانے کے بعد ہی امریکی ارب پتی جارج سورس نے کہا تھا کہ روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی سب سے موثر ترکیب اس وقت امریکہ کے پاس ہے۔

سورس نے واشنگٹن کو تجویز دی کہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ اپنے ہنگامی ذخائر کو فروخت کرنا شروع کر دے۔ اس وقت ابتدائی اندازہ لگایا گیا کہ اگر امریکہ یومیہ پانچ لاکھ بیرل بیچ دے تو اس سے فی بیرل قیمت 12 ڈالر کم ہوجائے گی جس کے سبب روس 40 ارب ڈالر کی ممکنہ آمدنی سے محروم ہو جائے گا۔

ہیوسٹن یونیورسٹی کے ماہرین کے بقول عالمی قیمتوں میں کمی اور پیداواری اخراجات میں زیادتی سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ان میں روس، ایران اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ شامل ہیں جو تیل کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔

1975 سے امریکہ نے توانائی کے بحران سے بچنے کے لیے احتیاطی ذخائر محفوظ کیے تاکہ 90 دنوں تک معیشت کی گاڑی کسی رکاوٹ کے چلتی رہے۔ توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس 200 سے زیادہ دنوں کی ضروریات سے بڑھ کر ذخائر دستیاب ہیں۔

26 مارچ 2014 کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کی ایک سماعت میں بتایا گیا تھا کہ جوں جوں امریکہ کی داخلی پیداوار بڑھ رہی ہے امریکہ درآمدی تیل کی ضرورت کے بغیر ہی اپنے احتیاطی ذخائر برقرار رکھ سکے گا۔ امریکہ میں اس وقت 84 لاکھ بیرل تیل یومیہ نکالا جا رہا ہے اور تیل کی داخلی ضرورت پوری کرنے کے لیے صرف 25 فیصد درآمدی تیل کی ضرورت رہ جائے گی۔

2015 میں امریکہ میں داخلی تیل کی پیداوار 93 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اضافی ذخائر فروخت کرنے سے امریکہ کچھ مقدار برآمد بھی کر پائے گا جس کا ملکی معیشت کو اضافی فائدہ پہنچے گا خصوصاً تیل صاف کرنے والی صنعت کو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ممبران امریکہ کی اضافی پیداوار اور داخلی ذخائر میں اضافے پر خوش نہیں اور اپنے برآمدی کوٹے میں کمی نہ کر کے قیمت کو پست رکھ کر امریکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیداوار اور برآمدات دونوں میں کمی لائیں

تیل نکالنے کے لیے متعارف کرائی جانے والی نئی Shale ٹیکنالوجی کے سبب اندازہ لگایا گیا ہے کہ امریکہ 2035 تک اپنی تمام توانائی کی ضروریات خود پورا کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

ان دنوں امریکی محکمہ توانائی سات ایسے منصوبوں پر غور کر رہا ہے جن کے عمل میں آنے کے بعد امریکہ 93 ارب مکعب فٹ مائع گیس (LNG) برآمد کرنے کے قابل ہو سکے گا۔ کرائمیا کے بحران میں روس کے پھنس جانے کے بعد کئی امریکی کمپنیاں یورپی ممالک کو قدرتی گیس کی برآمد کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اپنے اضافی ذخائر فروخت کر رہا ہے، اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنی پیداوار میں کمی نہ کرے۔ امریکی اندازوں میں یہ امر پیش نظر تھا کہ سعودی عرب روس کو یہ پیغام دینا چاہے گا کہ شام میں جاری صورت حال پر ماسکو اپنے موقف میں لچک دکھائے۔

تاہم تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ممبران امریکہ کی اضافی پیداوار اور داخلی ذخائر میں اضافے پر خوش نہیں اور اپنے برآمدی کوٹے میں کمی نہ کر کے قیمت کو پست رکھ کر امریکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیداوار اور برآمدات دونوں میں کمی لائیں۔

ماضی میں ایسی مثال ملتی ہے جب قیمتوں میں کمی کے ذریعے اوپیک ممالک نے تیل کی امریکی پیداوار کو بڑھنے سے روک دیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ میں shale oil کی سرمایہ کاری میں کچھ کمی نظر آئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کے سبب اس سال اوپیک ممالک 257 ارب ڈالر کی متوقع آمدنی سے محروم رہ جائیں گے۔ تاہم ان ممالک کو یہ امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں کئی کمپنیاں کم منافع اور زیادہ اخراجات کے سبب مزید پیداوار سے پیچھے ہٹ جائیں گی جس کے بعد قیمتوں میں دوبارہ بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں