بھارتی شہری پر تشدد کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Police camera
Image caption میڈیسن کے پولیس چیف نے اس پورے واقعے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سریش پٹیل کو زمین پر گراتے دکھایا گیا ہے۔

امریکی ریاست الاباما میں پولیس نے ایک معمر بھارتی شہری سے بدسلوکی کرنے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ میڈیسن نامی علاقے میں پیش آیا تھا اور بھارت کی وزارت خارجہ نے اس پر تشویش ظاہر کی تھی۔

میڈیسن پولیس کے سربراہ لیری مسي نے اس معاملے میں ملوث پولیس افسر ایرک پارکر کو معطل کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

بھارتی ریاست گجرات سے اپنےنوزائیدہ پوتے کی دیکھ بھال کے ليے آنے والے سریش بھائي پٹیل جب اپنے بیٹے کے مکان کے پاس چہل قدمی کر رہے تھے تو پولیس نےانہیں روکا تھا۔

پولیس کے مطابق ایسا ایک پڑوسی کی فون پر شکایت درج کروانے کے بعد کیا گیا کہ ایک مشتبہ نظر آنےوالا شخص علاقے میں گھوم رہا ہے۔

سریش بھائی پٹیل انگریزی نہیں بول پاتے اور پولیس نے بتایا کہ جب انہیں روک کر تلاشی لینے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگے جس کے بعد انہیں زمین پر گرا دیاگیا اور وہ زخمی ہوگئے۔

سریش کے بیٹے چراغ پٹیل نے مقامی میڈیا کو بتایاکہ ان کے والد جزوی طور پر فالج کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کے صحت یاب ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

میڈیسن کے پولیس چیف نے اس پورے واقعے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سریش پٹیل کو زمین پر گراتے دکھایا گیا ہے۔

پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’میں مسٹر پٹیل اور ان کے خاندان اور مقامی کمیونٹی سے تہہِ دل سے معافی مانگتا ہوں۔ ہماري کوشش رہتی ہے کہ ہم توقعات سے بڑھ چڑھ کر خود کو ثابت کریں۔‘

پولیس افسر ایرک پارکر کے خلاف حملہ کرنے کا مقدمہ تو درج ہوا ہی ہے، ایف بی آئی نے بھی شہری حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

سریش بھائي پٹیل کے بیٹے چراغ پٹیل نے بھی مقامی عدالت میں پولس اور حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

اس کے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے بھی جمعرات کو اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا تھا۔

چراغ پٹیل نے بدھ کو میڈیا میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بےحد سادہ خاندان سے ہیں اور انہیں قطعی امید نہیں تھی کہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں وہاں اس طرح کا واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں